div align="right">وزیراعظم
آزاد جموں کشمیر راجہ فاروق حیدر نے پیپلز پارٹی رہنماء سینیٹر رحمان ملک
سے انکے گھر پر ملاقات کی،سینیٹر رحمان ملک نے وزیراعظم فاروق حیدر کی آمد
پر انکا پرتپاک استقبال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے ملکی صورتحال، کشمیر
معاملات و کشمیری حکومت کو درپیش مسائل سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو
کی,سینیٹر رحمان ملک نے وزیراعظم فاروق حیدر کی خیریت دریافت کی اور انکے
ہیلی کاپٹر پر بھارتی فائرنگ کی شدید مذمت کی۔
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ
وزیراعظم فاروق حیدر کے ہیلی کاپٹر پر بھارت کی جانب سے فائرنگ بزدلانہ و
شرمناک عمل ہےبھارت بزدلانہ حملوں سے غیور و بہادر کشمیریوں کے بلند حوصلے
پست نہیں ہو سکتے،اقوام متحدہ اور عالمی برادری وزیراعظم فاروق حیدر کے
ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کا سخت نوٹس لیں۔
پیپلز پارٹی رہنما کا کہنا تھا
کہ مطالبہ کرتا ہوں کہ اقوام متحدہ وزیراعظم فاروق حیدر پر بھارتی فائرنگ
کی جوڈیشل انکوائری کریں،وقت ہے کہ بھارت کے مکروہ چہرے کو دنیا کے سامنے
بے نقاب کیا جائے،خدانخواستہ اگر وزیر اعظم فاروق حیدر کو کچھ ہوجاتا تو
بھارت کو بھاری قیمت چکانا پڑتی۔
سینیٹر رحما ن ملک کا کہنا بتھا کہ
بھارت مظلوم کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں، عالمی ادارے خاموش
تماشائی بنے ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ مہمان
نوازی اور نیک خوہشات کے اظہار پر سینیٹر رحمان ملک کا شکر گزار ہوں،سینیٹر
رحمان ملک نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حقوق کیلئے بات کی ہے جو قابل تعریف
ہے،نیلم جہلم کے پانی کا رخ بھارت کیطرف موڑنے کیوجہ سے آنے والے سالوں میں
کشمیر میں پانی کی قلت شدید ہوگی۔
وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ
سینٹ قائمہ کمیٹی اور سینیٹ، حکومت پاکستان پر کشمیر کیلئے بجٹ میں اضافے
پر زور دے،سینیٹ حکومت پاکستان پر زور دیں کہ آزادکشمیر کیلئے این ایف سی
ایوارڈ میں 5 فیصد حصہ دیا جائے،بھارتی وزیراعظم مودی کے دور میں کشمیریوں
پر مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ وزیراعظم فاروق
حیدر کو کشمیر کے ہر ایشو و معاملے پر بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتا
ہوں،سینیٹ کے فلور پر کشمیر ی حکومت کے مسائل کو اجاگر کرونگااور وزیراعظم
پاکستان کو خط لکھوں گا۔
دونوں رہنماؤں نے جموں کشمیر کے معاملات پر
مفصل گفتگو کی اور حکومت جموں کشمیر کے مسائل اجاگر کئے،دونوں رہنماؤں نے
وزیراعظم مودی کی پاکستان مخالف پالیسی کی مذمت کی۔