متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ نو
ماہ کے بجٹ نے لوگوں کی مزید کمر توڑ دی ہے، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری
میں اضافہ ہوگیا ہے، نان فائلر کی چہ مگوئیوں کے بعد جو لوگ ٹیکس دیتے ہیں
وہ بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ہم بھی ٹیکس کیوں دیں، ہم بھی اپنے
ریٹرنز اور گوشوارے فائل کیوں کریں۔
کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ نمائش کے موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے
نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ میں وزیر اعظم
عمران خان اور وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر سے کہتا ہوں کہ ان کے بجٹ میں ایسی
معاشی اصلاحات ہونی چاہیے جس سے کہ ان کے سو روزہ منصوبے کی بھی عکاسی ہو
اور اس پر بھی عملدرآمد ہو لیکن بجٹ کچھ کہہ رہا ہے اور سو روزہ منصوبہ کچھ
اور کہہ رہا ہے اس میں زمین آسمان کا فرق ہے، عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں
مل رہا۔
فاروق ستار کا یہ بھی کہناتھا کہ سو روزہ منصوبے میں تین چار اقدام مزید
ہونے چاہئیں، ان میں سے ایک یہ کہ آئین میں مقامی حکومت کے نظام کو تحفظ دے
کر اسے باختیار، موثر اور با وسیلہ بنایا جائے۔ مقامی حکومت کے فنکشنز کو
باقاعدہ آئین میں شامل کیا جائے۔ٹیکسوں کے غیر منصفانہ نظام کو ختم کیا
جانا چاہیے، غریبوں پر ٹیکس ختم کیا جائے، ان ڈائریکٹ اور سیلز ٹیکس کی شرح
کو کم کیا جائے جس کے نتیجے میں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری میں کمی
ہوگی، جو طبقہ ٹیکس دے سکتا ہے، ٹیکس چوری کررہا ہے، منی لانڈرنگ کررہا ہے،
یہاں کرپشن کرکے پیسہ باہر بھیج رہا ہے اس طبقے کے خلاف کوئی موثر اقدام
اٹھانا جانا چاہیے۔