کراچی، محکمہ بلدیات کو مستحکم بنانے کیلئے ملازمین کی تربیت کرنی ہوگی، سعید غنی
وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ محکمہ بلدیات اور اس کے زیر انتظام
اداروں کو مستحکم بنانے کے لئے ان کے ملازمین کی تربیت کرنی ہوگی۔ پورے
ملک میں یکساں بلدیاتی نظام ممکن نہیں ہے کیونکہ ہر صوبے حتیٰ کہ شہروں اور
دیہی علاقوں کی جغرافیائی اور وہاں کے رہن سہن سمیت دیگر مختلف ہیں۔ وفاقی
حکومت کسی صورت سندھ میں اپنا بلدیاتی نظام مسلط نہیں کرسکتی کیونکہ 18
ویں ترمیم کے بعد اب صوبائی حکومت کو مکمل آزادی ہے کہ وہ اپنی اسمبلیوں سے
بلدیاتی نظام کو منظور کرائے۔ یو سی ایل جی، ایل سی اے سمیت تمام کو دعوت
دیتا ہوں کہ وہ صوبہ سندھ میں بلدیاتی نظام کو مزید موثر بنانے کے لئے اپنی
تجاویز دیں ہم ان پر ضرور غور کریں گے اور جہاں مناسب ہوا وہاں اسمبلی سے
اس کی منظوری بھی لے سکتے ہیں۔
یونائٹیڈ
سٹی اینڈ لوکل گورنمنٹس ایشیا پیسیفک (یو سی ایل جی) کی سیکرٹری
جنرل ڈاکٹر برناڈیاارواتی کی قیادت میں آنے والے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے
سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں سب سے زیادہ بہتر بلدیاتی
نظام صوبہ سندھ
کے پاس ہے لیکن اب بھی ان میں ترامیم کی گنجائش ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ
میں 2001 میں جب مشرف کا بلدیاتی نظام تھا اس وقت بھی اختیارات نچلی سطح پر
منتقل نہیں ہوئے تھے البتہ اس وقت کے سٹی ناظم کے پاس بھی صفائی ستھرائی
اور کچڑہ اٹھانے کی ذمہ داری نہیں تھی اور آج بھی مئیر کے پاس یہ ذمہ داری
نہیں بلکہ ہم نے اسے گراس روٹ پر ڈی ایم سیز کو منتقل کردیا ہے۔ اسی طرح ہم
نے لوکل ٹیکس، صحت اور تعلیم کے شعبہء کو پہلے کے ایم سی کے پاس تھے انہیں
گراس روٹ پر ڈی ایم سیز کو منتقل کردیا ہے تاکہ کے ایم سی سے اس کا بوجھ
کم ہو اور ڈی ایم سیز اپنے اپنے ڈی ایم سیز میں ان مراکز کو بہتر طریقے سے
چلا سکیں۔