احتساب عدالت میں العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس پر سماعت ہوئی۔ سابق وزیر اعظم
نواز شریف بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے
تفتیشی افسر محبوب عالم پر جرح کی۔تفتیشی افسر نے کہا کہ نیب نے متعلقہ
اداروں کو اثاثوں سے متعلق ریکارڈ کے لیے خطوط لکھے، یہ درست ہے ایف آئی
اے کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔
خواجہ حارث نے پوچھا کہ کیا آپ نے نیب کے حکام کو بھی ریکارڈ فراہمی کے
لیے خط لکھا؟ جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ نیب حکام کو بھی خط لکھا مگر ہیڈ
کوارٹر سے کوئی جواب نہیں ملا۔ کیا ایف آئی اے اور نیب ہیڈ کوارٹر کو
خطوط کی کاپیاں ہیں؟ جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ خطوط کی کاپیاں میرے پاس
نہیں عدالت کہے تو پیش کر سکتا ہوں۔
خواجہ حارث نے کہا کہ کیا آپ نے ایف آئی اے کو یاد دہانی کا خط لکھا تھا؟
تفتیشی افسر نے کہا کہ ایف آئی اے کو یاد دہانی کا کوئی خط نہیں لکھا۔
نیب ہیڈ کوارٹر کو بھی یاد دہانی کے لیے خط نہیں لکھا۔خواجہ حارث نے کہا کہ
عبوری ریفرنس سے پہلے آپ نے تفتیشی رپورٹ میں لکھا جس پر تفتیشی افسر نے
کہا کہ ریکارڈ دیکھنا پڑے گا۔
وکیل صفائی نے نواز شریف اور حسین نواز کے ٹرانسکرپٹ پیش کرنے پر اعتراض
کیا تو عدالت نے کہا کہ وکیل صفائی کے اعتراض پر فیصلہ بعد میں کیا جائے
گا۔