لاہور، رانا مشہود نے آل شریف کے کہنے پر بھونڈی کوشش کی، فیاض الحسن چوہان
وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ 2018ء کے انتخابات
بالکل صاف وشفاف تھے، اس میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں تھا، رانا
مشہود نے آل شریف کے کہنے پر جو حرکت کی ہے اس سے فوج، اسٹیبلشمنٹ اور
پاکستان کے محب وطن عناصر کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
پنجاب اسمبلی کے باہر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے
فیاض الحسن چوہان کا مزید کہنا تھا کہ رانا مشہود جس لاؤ لشکر کے ساتھ آج
میڈیا کے سامنے آئے اور رات کو اپنے بیان کے بعد مسلسل انہوں نے ٹی وی
چینلز پر جو بیان دیئے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ان کی ذاتی رائے نہیں
ہوسکتی، نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کی مشاورت کے بعد رانا مشہود
کو بھیجا گیا تھا کیونکہ کچھ وقت پہلے وزیر ماحولیات رہنے والے مشاہد اللہ
خان نے بھی لندن میں بیٹھ کر ایک انٹرویو کے ذریعے دھرنوں کے حوالے سے
اسٹیبلشمنٹ کو نیچا دکھانے کی کوشش کی تھی لیکن بعد میں ردعمل سامنے آنے کے
بعد آل شریف اور ن لیگ کی قیادت نے انہیں وزیر مخلیات بنادیا تھا، ٹھیک
اسی طرح رانا مشہود کے کیس کے اندر بھی ن لیگ کی قیادت اور شہباز شریف وہی
چالاکی اور عیاری کا کھیل کھیل رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کل کا رانا مشہود کا بیان
اور آج کی باتیں بنیادی طور پر گیارہ کے قریب ضمنی انتخابات ہورہے ہیں، ان
کا ایجنڈہ یہ تھا کہ ایک طرف عوام کو بے وقوف بنائیں گے کہ اسٹیلشمنٹ سے
معاملات طے ہوچکے ہیں تاکہ لوگوں کی ہمدردیاں اور جھکاؤ ہماری طرف ہوجائے
اور ہم الیکشن جیت سکیں، دوسری طرف انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو اور 2018ء کے
انتخابات کو مشکوک بنانے کیلئے ایک انتہائی گھٹیا اور بھونڈی حرکت کی۔
فیاض الحسن چوہان نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ گزشتہ دس سالوں سے جمہوریت کو
پروان چڑھانے کیلئے اور جمہوریت کو مضبوط ومستحکم کرنے کیلئے اپنا کردار
ادا کررہی ہے۔ رانا مشہود نے آل شریف کے کہنے پر جو حرکت کی ہے اس سے جہاں
پر فوج ، اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان کے محب وطن عناصر کے جذبات کو مجروح کیا
ہے اپنا چہرہ بھی بے نقاب کردیا ہے، نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز ،
حمزہ شہباز اور ان کے تمام حواری قوالی کی طرز پر کوئی بانسری بجارہا ہوتا
تھا تو کوئی سارنگی بجارہا ہوتا تھا اور اکٹھے مل کر ایک ہی لے میں قوالی
پڑھتے تھے کہ ووٹ کو عزت دو ، ووٹ کو عزت دو لیکن کل پتہ چلا کہ ان کی اصل
غزل اور قوالی یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے ووٹ لو ۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا پارلیمانی جمہوری نظام کے ساتھ قطعاً کوئی لینا دینا نہیں ہے۔