اسلام آباد، وزیرِ اعظم عمران خان سےعلماء کرام کے وفد کی ملاقات
وزیرِ اعظم عمران خان سےعلماء کرام کے وفد نے وزیرِ اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔وفد میں مفتی منیب الرحمٰن، مولانا محمد حنیف جالندھری، صاحبزادہ عبدالمصطفیٰ ہزاروی، مولانا یاسین ظفر، مولانا عبدالمالک، ڈاکٹر مولانا عطاء الرحمن، مولونا سید قاضی نیاز حسین نقوی شامل تھے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود، وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری، وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی بھی ملاقات میں موجودتھے۔
ملاقات میں حکومت کی جانب سے شعبہ تعلیم (نظام و نصاب تعلیم) کی بہتری کے لئے کی جانے والی اصلاحات اور اس سلسلے میں مدارس کے کردار و خدمات اوران سے متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
علماء کرام کے وفد نے وزیرِ اعظم عمران خان کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکبادپیش کی۔
وفد کا کہنا تھا کہ خلوصِ دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے مشن میں سرخروکرے اور قوم کی توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب فرمائے۔وفد نے وزیر اعظم عمران خان کو یقین دہانی کرائی کہ علماء کرام حکومت کے تمام مثبت اقدامات کی بھرپور حمایت کریں گے۔
وزیرِ اعظم نے حکومتی اقدامات کی حمایت پر علمائے کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نظامِ تعلیم اور نصاب تعلیم کی بہتری پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ملک میں تین مختلف نظام تعلیم کی موجودگی قوم کی تقسیم اور مختلف کلچرز کو پروان چڑھانے کا باعث رہی ہے۔ ایک قوم کی تعمیر کے لئے ضروری ہے کہ بنیادی نظام تعلیم اور نصاب تعلیم میں یکسانیت ہو۔ مدرسے کے بچوں کا بھی پورا حق ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ شعبہ تعلیم میں اصلاحات کا بنیادی مقصد تفریق کاخاتمہ اور مدرسے کے بچے کو اوپر لانا ہے۔ مدرسوں کی خدمات کو نظر انداز کرنا اور ان کو دہشت گردی سے منسوب کرنا ناانصافی ہے، مدارس کو درپیش تمام مسائل باہمی مشاورت سے حل کریں گے۔