Oct 03, 2018 11:11 pm
views : 525
Location : National Assembly
Islamabad- Restrictions on non-filers on property, vehicle purchase reinstated
اسلام آباد، قومی اسمبلی میں ضمنی مالیاتی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور
قومی اسمبلی نے ضمنی مالیاتی ترمیمی بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ہے۔
اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر نے ضمنی مالیاتی ترمیمی بل 2018 منظوری کیلئے پیش کیا، جس میں حکومت کی جانب سے ایک بار پھر ٹیکس نادہندگان کیلئے زمین اور گاڑی خریدنے پر پابندی کا اعلان کردیا گیا۔ اپوزیشن اراکین نے بل کی شق 2 کو چیلنج کرتے ہوئے رائے شماری کا مطالبہ کیا جسے اسپیکر نے منظور کرلیا۔
رائے شماری میں ترمیمی بل کی شق 2 کی حمایت میں 158 اور مخالفت میں 120 ووٹ آئے، پیپلزپارٹی کی جانب سے بل میں اراکین اسمبلی کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے اور اراکین کو پینشن کا حق دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ تاہم وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ ملکی معاشی صورتحال ٹھیک نہیں، اس لئے فی الحال کوئی مطالبہ منظور نہیں کیا جاسکتا۔
قومی اسمبلی نے ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے فنانس ترمیمی بل کی منظوری دے دی۔
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دوسو سی سی موٹر سائیکل خریدنا اور وراثتی جائیداد کی منتقلی ممکن ہو گی، اوورسیز پاکستانیز گھر اور گاڑی لے سکیں گے۔ انہوں نے کہا بڑے نان فائلرز کیخلاف کل سے کمپین کا آغاز ہوگا، 169 بڑے نان فائلرز کیخلاف نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں، ابھی بھی وقت ہے ٹیکس نیٹ میں آجائیں، ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔
اسد عمر نے مزید کہا کہ چاہتے ہیں وہ لوگ جو بڑی بڑی رقوم بینک میں رکھتے ہیں انکی معلومات حاصل کریں، صاحب ثروت ٹیکس نہیں دیں گے تو ملک بہتر نہیں ہوگا۔ ہم کسانوں کیلئے کھاد پر سبسڈی کا پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں، سیاسی تقریریں جتنی مرضی کریں، لیکن خدا کا واسطہ سچ قوم کو ضرور بتا دیں کہ آج معیشت کہاں کھڑی ہے۔
وفاقی ویزر خزانہ نے کہا بلوچستان میں بجلی کے منصوبوں پر کوئی کام نہیں ہوا، وفاق نے بجلی فراہمی کے چھوٹے صوبوں پر کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا ماضی میں اپوزیشن معیشت پر سیاست نہیں کرتی تھی، انہوں نے معیشت کو چاروں خانے چت کر دیا، اوگرا کے مطابق 154 ارب روپے کا خسارا ہے۔
منی بجٹ منظور ہوتے ہی قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔