div align="right">احتساب
عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کیس
کی سماعت جاری ہے۔ کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کررہے
ہیں۔ایف آئی اے اور نیب کو لکھے گئے خطوط کی نقول عدالت میں پیش کردی گئی۔
نقول تفتیشی افسر نے عدالتی حکم پر پیش کیں ۔خواجہ حارث کی تفتیشی
افسرمحبوب عالم پر جرح جاری ہے۔
تفتیشی افسر محبوب عالم نے بتایا کہ
ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلے سے متعلق مجھے خط کے ذریعے آگاہ کیا
گیا۔ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلے کی اصل کاپی ریفرنس کا حصہ نہیں بنائی گئی اور
ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلے سے متعلق خط لکھنے والے افسر کا بیان ریکارڈ نہیں
کیا گیا۔دستاویزات حاصل کرلی ہیں کیونکہ سپریم کورٹ اور نیب ایگزیکٹو بورڈ
نے ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ریفرنس سپریم کورٹ کے حکم پر چھ
ہفتوں میں دائر کرنا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ اور نیب ایگزیکٹو بورڈ کی ہدایت کے مطابق ریفرنس دائر نہ کرنے کا آپشن نہیں تھا۔
خواجہ
حارث نے تفتیشی افسر محبوب عالم سے جرح کی کہ آپ نے جے آئی ٹی کی مصدقہ
کاپیز کیلئے کب رجوع کیا تھا، محبوب عالم نے بتایا کہ نہیں میں نے خود
رجوع نہیں کیا تھا۔
خواجہ حارث نے جرح کی کہ کس نے مصدقہ کاپی کیلئے
رجوع کیا تھا،گواہ نے بتایا کہ ہم نے پراسیکوشن ڈویژن نیب ہیڈ کوارٹرز میں
درخواست دی تھی۔
خواجہ حارث نے مزید جرح کی کہ کس نے سپریم کورٹ سے جے
آئی ٹی کی مصدقہ کاپی حاصل کی،گواہ نے بتایا کہ میری صوابدید پر کاپی وصول
کی گئی۔
خواجہ حارث کی جانب سے جرح کی گئی کہ کیا کوئی اتھارٹی لیٹر
یاسر نواز کو دیا تھا؟ محبوب عالم نے بتایا کہ ایسا کوئی اتھارٹی لیٹر یاسر
نواز کو نہیں دیا تھا، میں نے پراسیکوشن ڈویژن کو تحریری درخواست دی
تھی،جب یاسر نواز نے جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کی اسکا بیان فراہم نہیں کیا
گیا۔
خواجہ
حارث نے جرح کی کہ کیا آپ نے جے آئی ٹی رپورٹ کی تصدیق کو قانون شہادت پر
پرکھا تھا،کیا رپورٹ کی تصدیق کرنے والے کا نام لکھا ہوا تھا۔
نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ یہ سوال تفتیشی افسر سے نہیں پوچھا جاسکتا۔