کراچی، معروف قوال گھرانہ صابری برادرز کا ایک اور چراغ بجھ گیا
بین الاقوامی شہرت یافتہ اور برصغیر پاک وہند میں معروف قوال گھرانہ صابری
برادرز کا ایک اور چراغ بجھ گیا۔ معروف قوال غلام فرید صابری کے بڑے
صاحبزادے اور امجد فرید صابری کے بڑے بھائی عظمت صابری کافی عرصے سے گردے
کے عارضے میں مبتلا ہونے کے بعد دار فانی سے کوچ کرگئے۔ مرحوم ایس آئی یو
ٹی میں زیر علاج تھے، مرحوم نے سوگواران میں ایک بیوہ، تین بیٹیاں اور ایک
بیٹا چھوڑا ہے۔
عظمت صابری کی نماز جنازہ لیاقت آباد نمبر چار میں قائم مسجد فرقانیہ میں
ادا کی گئی۔ مرحوم کی نماز جنازہ میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، سیاسی،
سماجی اور تجارتی حلقوں کے رہنماؤں کے علاوہ معززین شہر کی ایک بڑی تعداد
نے شرکت کی۔
ثروت صابری کا کہنا تھا کہ میرابھائی اللہ کو پیارا ہوگیا ہے، دو ڈھائی
سالوں میں ہمارے خاندان نے بہت غم دیکھ لئے ہیں، دو پھوپھی زاد بھائی، امجد
صابری شہید اور آج عظمت صابری اللہ پاک کو پیارے ہوگئے، اللہ پاک ان سب کی
مغفرت فرمائے۔
طلحہ صابری کا کہنا تھا کہ میرے بڑے بھائی عظمت صابری خالق حقیقی سے جاملے
ہیں۔ بنیادی طور پر وہ میرے اور امجد صابری کیلئے ایک استاد کا درجہ رکھتے
تھے۔ وہ ہمارے سب سے بڑے بھائی تھے، وہ امجد بھائی کے ساتھ ہمیشہ ہوا کرتے
تھے، ہم تینوں بھائی مل کر کام کرتے تھے، اب دونوں بھائی مجھے چھوڑ کر چلے
گئے ہیں، یہ بھاری ذمہ داری اب میرے کاندھوں پر آگئی ہے، میرے حق میں دعا
کی جائے کہ میں اپنے بھائیوں کا مشن جاری رکھوں۔
نماز جنازہ میں شریک فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اردو ادب اور روحانی سلسلوں
کی ایک بڑی اہم صنف ہے جسے قوالی کہتے ہیں اور یہ بھی ایک ذریعہ ہے جس کے
ذریعے سے جو اسلام کا اصل چہرہ ہے سامنے لایا جاتا ہے، اسلام امن وآشتی کا
مذہب ہے، میں سمجھتا ہوں کہ پوری دنیا کو اس بات سے روشناس کرانے کیلئے
امجد صابری شہید بھائی اور ان کے پورے خانوادے نے جو خدمات انجام دی ہیں اس
کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ امجد صابری کے تمام بھائیوں کی بھی نہ صرف پورا شہر
کراچی بلکہ پورا ملک انتہائی عزت، تکریم اور احترام کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ
اگر امجد صابری کے بھائی عظمت صابری بھائی اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو اس
خانوادے کے سارے چاہنے والے آج بھی یہا ںآئے ہیں، ہم ان کے غم میں برابر کے
شریک ہیں، اللہ تعالیٰ مرحوم عظمت صابری کو جوار رحمت میں جگہ عطا کرے ۔
بعد ازاں مرحوم کو میوہ شاہ قبرستان کے اندر بزرگوں کے پہلوؤں میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔