Oct 08, 2018 05:32 pm
views : 479
Location : Islamabad Hotel
Islamabad- JUI(F) Cheif Molana Fazal-ur-Rehman Addressees
اسلام آباد، قومی مشاورتی کانفرنس کی حکومت کو بیس مطالبات کی منظوری کیلئے ایک ماہ کی مہلت
اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ میں شامل مذہبی جماعتوں کے تحت آج دارالحکومت
اسلام آباد میں قومی مشاورتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ قومی مشاورتی
کانفرنس میں ملک کی بڑی مذہبی جماعتوں کے اکابرین اور قائدین نے شرکت کی۔
کانفرنس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فصل الرحمن، مولانا
عبدالغفور حیدری، جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق، لیاقت
بلوچ، جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ شاہ انس نورانی سمیت دیگر مذہبی
رہنماء شریک تھے۔
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے قومی مشاورتی کانفرنس کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔
اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا جبکہ
توہین رسالت کسی بھی صورت قابل برداشت نہیں ہوگی۔ اعلامئے میں اتحاد
تنظیمات مدارس دینیہ کی جانب سے بیس مطالبات پیش کئے گئے ہیں جس پر تمام
مذہبی جماعتوں نے اتفاق کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے حکومت کو ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی
مشاورتی کانفرنس کے بیس مطالبات تیس یوم میں منظور نہ کیا گیا تو آئندہ کی
حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔
مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے انتخابات کو وہاں
کے عوام نے یکسر مسترد کردیا ہے، قومی مشاورتی کانفرنس ان کے فیصلے کی مکمل
تائید کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انتخابات استصواب رائے
کا متبادل نہیں ہیں لہٰذا انہیں استصواب رائے کا حق دیا جائے۔
انہوں نے بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف دھمکی آمیزلب ولہجے کی شدید ترین
الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے چار سو میزائلوں کی حال
ہی میں خریداری خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑ سکتا ہے اور پاکستان کیلئے
خطرے کا باعث بن سکتا ہے،
قومی مشاورتی کانفرنس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس قسم کے
اقدامات کو روکنے کیلئے اقوام متحدہ سے مذاکرات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔