وزیراعلیٰ
سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت انسداد پولیو کے صوبائی ٹاسک فورس کا
اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیر صحت، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری ،
کمشنر کراچی، صوبائی سیکریٹریز و تمام ڈپٹی کمشنرز موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کو پروگرام
انچارج فیاض جتوئی کی جانب سے بریفنگ دی گئی ۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ
ستمبر میں کراچی کے گیارہ مقامات سے نمونے لئے گئے۔مجوزہ نمونوں میں
سہراب گوٹھ، چکورہ نالہ، گلشن اقبال، محمد خان کالونی، بلدیہ، اورنگی نالہ
سے پولیو کے مثبت نتائج آئے۔ماہ ستمبرمیں دیہی سندھ کے سکھر سے پولیو کے
وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اپریل
سے ستمبر 2018 تک کراچی میں ایک لاکھ اٹھارہ ہزار پانچ سو ستاون بچوں کے
والدین کے انکار کے باعث پولیو ویکسین نہیں کی جاسکی۔کراچی میں اپریل سے
ستمبر 2018 تک چھیانوے ہزار نو سو چھ بچے گھروں پر نہ ہونے کے باعث
ویکسین نہیں ہوسکے۔دیہی سندھ کے علاقوں میں اٹھاسی ہزار چار سو چونسٹھ
بچے گھروں پر نہ ہونے کے باعث پولیو ویکسین نہ ہوسکے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تمام اسکولوں میں پولیو ٹیم بھیج کر بچوں کو پولیو ویکسین دینے کی ہدایت دی۔
بریفنگ
میں مزید بتایا گیا کہ خسرہ 2015 سے بڑھ رہا ہے،2015 میں خسرہ کے 281 کیسز
ہوئے جس میں 8 کی موت واقع ہوئی،2016 میں 1729 کیسز ہوئے اور 19 اموات
ہوئیں،2017 میں 3086 کیسز ہوئے جن میں 35 کی اموات ہوئیں۔
وزیراعلیٰ
سندھ نے خسرے کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ویکسین
کروانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کہ کہ عوام میں خسرے کے علامات اور آگاہی
سے متعلق آگاہی مہم چلائی جائے۔
وزیر
اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اللہ کا کرم ہے کہ سب کی
مشترکہ کاوشوں کی بدولت سندھ میں اس سال پولیو کا کوئی کیس نہیں ہوا۔ہماری
حکومت کی قومی کمٹمنٹ ہے کہ پولیو کا خاتمہ کریں۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا مزید
کہنا تھا کہ اس وقت صرف افغانستان اور پاکستان ہی دو ممالک ہیں جہاں پولیو
پایا جاتا ہے،ہمیں اپنی کاوشیں مزید تیز اور بہتر کرکے پولیو کا جڑ سے
خاتمہ کرنا ہوگا۔