Oct 09, 2018 09:03 pm
views : 453
Location : Domestic Place
Karachi- JIU F Moulana Fazal-ur-Rehman Addresses
کراچی، جب سے نئی حکومت آئی ہے ہر آدمی ہنی مون منارہا ہے، مولانا فضل الرحمٰن
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ پاکستان
کا آئین کہتا ہے کہ قانون سازی قرآن وسنت کے مطابق ہوگی اور قرآن وسنت کے
منافی قانون سازی نہیں ہوگی لیکن قانون سازی کا حق صرف پارلیمنٹ کو ہوگا
،پارلیمنٹ میں علماء نہیں ہوں گے تو قرآن وسنت کی روشنی میں کیسے قانون بن
سکتا ہے، آئین کچھ کہتا ہے ہم پارلیمنٹ میں کچھ اور کررہے ہوتے تھے اس کی
وجہ یہ ہے کہ وہاں علماء نہیں ہوتے۔
کراچی میں ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران مولانا فضل
الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ ورلڈ بینک، ایشین بینک، آئی ایم ایف کی شرائط
پر ملکی بجٹ تیار کیا جارہا ہے، ان کی شرائط پر قرضے لئے جارہے ہیں، ایسی
صورت میں معیشت کو آزاد نہیں کرایا جاسکتا۔ عمران خان کتنا اچھل رہا تھا کہ
ہم آئی ایم ایف میں نہیں جائیں گے، کشکول توڑ دیں گے اور کوئی قرضہ نہیں
لینگے، اگر آئی ایم ایف سے قرضہ لیا تو خودکشی کرلوں گا لیکن آج یہ سب سے
بڑا قرضہ لے رہا ہے، اب جب انہوں نے آئی ایم ایف کی شرائط قبول کرلی اور ان
کی شرائط پر نئی درخواست دیدی اس کے نتیجے میں ملکی معیشت پر جو اثر پڑے
گا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ایک دن میں ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافے
سے سرمایہ کاروں کے سینکڑوں ارب روپے ڈوب چکے ہیں دس دنوں میں معیشت تباہ
کردی گئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بس آئیڈیل باتیں کروانے کیلئے ان لوگوں
کو اقتدار میں لانا مقصود تھا۔
مولانا فضل الرحمن کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب سے نئی حکومت آئی ہے ہر آدمی
ہنی مون منارہا ہے، اب پاکستان کی ترقی کا راز غسل خانے اور بیت الخلاء صاف
کرنے میں ہے، ملک میں فحاشی، عریانی، رقص وسرور اور ڈھٹائی کے ساتھ بے
حیائی عروج پر ہے۔