اسلام آباد، آئی ایم
ایف میں جانا ہماری پالیسی نہیں تھا، فواد چوہدری
وفاقی
وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین کا کہنا ہے کہ ڈاک کی ترسیل کا نظام بہت
پرانا ہے اور وقت کے ساتھ اس میں جدت آئی،پاکستان پوسٹل بھی اس وقت 7 ارب
کے نقصان میں ہے،ادارے ہم کو جس حالت میں ملے ہیں سب کے سامنے حقیقت ہونی
چاہیے۔
دیکھنا ہو گا کہ پوسٹل سروسز کو کیسے خسارہ سے نکالا جا سکتا ہے ،آئی ایم
ایف میں جانا ہماری پالیسی نہیں تھا ،ایک ماہ سولہ دن کے ریزرو رہ گئے ہیں ،ہم نے ملک کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنا ہے،ملک قرضوں کو پچھلی حکومتوں نے قرضوں میں ڈبو دیا۔
اسلام آباد میں ورلڈ پوسٹ ڈے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری فواد حسین کا مزید کہنا تھا کہ
ذاتی علاج کیلئے لندن میں ٹیکس کے پیسوں پر جائیں گے تو ملک کا یہ ہی حال
ہو گا،ملک میں یہ حال ہے کہ ایک اسٹریچر پر دو دو مریض پڑے ہیں،ایک طبقہ
امیر سے امیر تر ہو رہا ہے اورغریب سے غریب ہو رہا ہے۔حکومتیں اداروں کو
مضبوط کرتی ہیں ،ہمارے ملک میں اداروں کے پیچھے پڑ گئے ہیں،تحریک انصاف کی
حکومت ملک لوٹنے والوں سے پیسے نکلوائے گی۔اپوزیشن قومی اسمبلی کا اجلاس
بلانا چاہتی ہے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔
چوہدری فواد حسین کا یہ بھی
کہنا تھا کہ ہمیں اٹھائیس ارب ڈالر اس سال ملک کو چلانے کیلئے چاہئیں،آٹھ
ارب ڈالر قرضہ واپس کرنے کیلئے درکار ہیں، روٹین میں ملک کو نہیں چلا
سکتے۔ وزیراعظم نے پیسے بنانے ہیں اور نہ ہی کوئی ایسا کرسکتا ہے،مشکلات
سے نکل کر قومیں بنتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعد رفیق نے اپنے حلقے کے
آٹھ ہزار لوگ بھرتی کیے تھے،میں اپنے حلقے کے لوگوں کو بھرتی کروں تو تین
نسلوں تک الیکشن نہیں ہاروں گا۔
فواد چوہدری کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشرف کے دور میں ساٹھ سالوں میں قرضہ چھ ہزار ارب کا تھا ۔