کراچی، ہمارے پاس زبان تو ہے لیکن اپنا بیانیہ نہیں ہے، پروفیسر ڈاکٹر ذوالقرنین احمد
پروفیسر ڈاکٹر ذوالقرنین احمد کا کہنا ہے کہ سماجی اور تاریخی مطالعوں کے
غوروفکر کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ جس قوم کا اپنا بیانیہ نہیں ہوتا
وہ قوم تقسیم درتقسیم کے عمل کا شکار ہوجاتی ہے۔جاپانیوں کے پاس اپنا
بیانیہ بھی ہے اور اپنی زبان بھی ہے، جرمنوں کے پاس اپنا بیانیہ بھی ہے اور
اپنی زبان بھی ہے، ہمارے پاس زبان تو ہے لیکن اپنا بیانیہ نہیں ہے،
پاکستان میں جتنی بھی زبانیں ہیں، ان کے پاس اپنا بیانیہ نہیں ،جہاں پر بلے
شاہ ہو، جہاں پر کوٹ مٹھن کا خواجہ غلام فرید ہوجہاں خوشحال خان خٹک ہو،
جہاں پر شاہ جو رسالو یعنی بھٹائی ہو۔
کراچی پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شاداب
احسانی کا مزید کہنا تھا کہ بھٹائی ؒ کی ساری شاعری سروں میں ہے اور سر کیا
ہے، مقامی فضاء ہے ،صرف ایک تارے کی بات کی جاتی ہے لیکن اس فضاء کی بات
نہیں کی جاتی، اگر بیانیہ مقامی ہوتا تو کب کا انقلاب آجاتا، نامساعد حالات
سے نبرد آزما لوگ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں کب کی صورتحال بدل چکی
ہوتی۔ وقت وسائل کی گرفت سے نکلنے کی طرف بڑھ جاتا۔
اس موقع پر معروف دانشور رضوان صدیقی کا کہنا تھا کہ بلوچ، پختون اور سندھی
بچے کو انگریزی پڑھنا دشوار ہے لیکن اردو پڑھنا دشوار نہیں ہے، ہماری اب
کوئی تہذیب نہیں رہی، وہ لوگ جو ہجرت کرکے آئے تھے ان کی تہذیب پچاس برس
پہلے ختم کردی گئی ہے، سرکاری سطح پر تئیس مارچ اور چودہ اگست اور دیگر
قومی ایام میں جو تقاریب ہوتی ہیں ان میں چار صوبوں کے کلچر کو پیش کیا
جاتا ہے، یہ چار صوبوں کا کلچر ہی پاکستان کا کلچر ہے۔ ہم نے اس کا موضوع
اس لئے رکھا ہے کہ چاروں صوبوں کی ثقافت، معیشت، ادب، تہذیب، روایات ،
اخلاقیات یہ سب پاکستان کا بیانیہ بنتا۔