کراچی، مبارک ویلج میں نیشنل بنک اور سرونگ ہینڈز آرگنائزیشن کی جانب سے فری میڈیکل کیمپ
اہلیان کراچی کی پسندیدہ
تفریح گاہ مبارک گوٹھ جو کہ مبارک ویلج کے نام سے مشہور ہے،تاہم یہاں کے
باسی پتھر کے دور کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،شہری سہولیات سے محروم یہ
علاقہ فلاحی تنظیموں کی نظروں سے بھی تقریبااوجھل ہی رہا ہے۔
مبارک گوٹھ
کے باسی جو زندی کی اہم ضروریات سے محروم ہیں،انکی سہولت کے لئے نیشنل بنک
آف پاکستان اور فلاحی ادارے سرونگ ہینڈز کی جانب سے ایک روزہ فری میڈیکل
کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر کے ماہر ڈاکٹرز اور میڈیکل اسٹاف نے
مقامی افراد کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کیں،میڈیکل کیمپ میں مبارک
ویلج اور اطراف سے آنے والے افراد کا مفت معائنہ کیا گیا،کیمپ کے آغاز سے
اختتام تک مریضوں کا تانتا بندھا رہا،مریضوں میں مفت معائنہ اور مفید
مشوروں کے علاوہ ادویات بھی مفت تقسیم کی گئیں۔
بعد ازاں مقامی افراد میں راشن بھی تقسیم کیا گیا۔
ذرائع
ابلاغ عامہ کے نمائندےگفتگو کرتے ہوئے نیشنل بنک کے ترجمان سید ابن حسن کا
کہنا تھا کہ نینشل بنک ملک بھر میں فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا
ہے،مبارک ویلج ضرورت مند لوگوں کا علاقہ ہے یہاں کے لوگوں کے علاج معالجے
کے ہزاروں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں یہاں میڈیکل کی سہولیات موجود نہیں ہیں
اسلئے سرونگ ہینڈز آرگنائزیشن کے اشتراک سے یہ میڈیکل کیمپ لگایا ہے۔
سرونگ
ہینڈز آرگنائزیشن کے بانی ڈاکٹر سکندر علی شیخ کا کہنا تھا کہ ہم ملک بھر
میں فگری میڈیکل کیمپس لگاتے ہیں جہاں آنے والوں کو معیاری ادویات اور طبی
سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جبکہ ہماری ترجیح ہوتی ہے کہ جو علاقے بنیادی
سہولیات سے محروم ہیں وہاں میڈیکل کیمپ لگایا جائے۔
میڈیکل کیمپ میں آنے
والے افراد کا کہنا تھا کہ ہمارے گاؤں میں کسی قسم کی کوئی سہولت نہیں
ہےنہ تو یہاں بجلی ہے نہ گیس نہ پانی اور نہ ہی ڈاکٹر یا کوئی کلینک ہے۔
مقامی شخص کا کہنا تھا جبکہ ڈاکٹر کے پاس جانے کے لئے بھی ہمیں 15 سے دو ہزار روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔
رضاکار
رمشا عتیق کا کہنا تھا کہ یہاں کے علاج معالجے کے اخراجات برداشت نہیں
کرسکتے اسلئے انکی سہولت کے لئے میڈیکل کیمپ لگایا گیا ہے۔
نوجوان عدنان
خان کا کہنا تھا کہ یہاں سے ماڑیپور جانے کے لئے 2 ہزار کے قریب خرچہ آتا
ہے،جبکہ اس میڈیکل کیمپ سے ہمیں بہت فائدہ ہوا ہے۔