احتساب
عدالت نے مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف شہباز
شریف کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی،نیب حکام نے احتساب
عدالت سے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کیس میں گرفتار شہبازشریف کے مزید 14روزہ
ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔
نیب کی جانب سے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف
کو 10روزہ ریمانڈ ختم ہونے پر نیب عدالت میں پیش کیا گیا،سماعت کے آغاز پر
نیب وکیل کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی مداخلت کے نئے شواہد آئے ہیں، جس پر
احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ یہ سب باتیں آپ پہلے بھی بتا چکے ہیں، جس پر
نیب وکیل امجد پرویز نے کہا کہ کچھ لوگوں نے رشوت بھی لی۔
اس موقع پر
شہباز شریف کے وکیل نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ میرے موکل نے ایک
پیسہ نہیں لیا، نہ ہی نیب کچھ تلاش کرسکا، شہباز شریف پر کرپشن کا الزام
نہیں،مزید ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔
واضح رہے کہ نیب کی جانب سے آشیانہ
اقبال ہاؤسنگ اسکیم، صاف پانی کیس، اور اربوں روپے کے گھپلوں کی تحقیقات
جاری ہیں، جس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت دیگر نامزد ہیں۔
شہباز
شریف کی پیشی کے موقع پر احتساب عدالت کی جانب جانے والے تمام راستے بند
کردیئے گئے، جب کہ عدالت کے اندر اور باہر پولیس اور رینجرز کی نفری تعینات
کی گئی۔ ن لیگی صدر کی پیشی کے موقع پر نیب عدالت کے باہر دیگر پارٹی
رہنماوں اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود رہی۔