فلیگ
شپ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت میں شروع ہو گئی، جس میں پیش ہونے کیلئے
نوازشریف اسلام آباد پہنچے،عدالت آمد پر ن لیگی رہنماوں نے نوازشریف کا
استقبال کیا،ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے کی۔
دفتر
خارجہ کے ڈائریکٹر آفاق احمد نے قطری شہزادے کا عدالت کو لکھا گیا خط پیش
کردیا، عدالت نے نوازشریف کو حاضری کے بعد واپس جانے کی اجازت دیدی۔
واجد
ضیا نے دوران سماعت فلیگ شپ انویسٹمنٹ لمیٹڈ کی 2002 سے 2016 تک کی فنانشل
سٹئٹمنٹ جمع کروا دیں،ہرسال کی سٹیٹمنٹ علیحدہ جمع کروائی گئی ہے،عدالت
نے نواز شریف کو حاضری کے بعد واپس جانے کی اجازت دیدی جس کے بعد وہ عدالت
سے روانہ ہو گئے۔
فلیگ شپ ریفرنس میں لگائے جانے والے الزامات میں کہا
گیا ہےکہ نوازشریف کے صاحبزادے حسن نواز فلیگ شپ کمپنی کے ڈائریکٹر تھے
اور انھوں نے بیرون ملک مہنگی جائیدادیں خریدیں،ملزمان اپنے اثاثوں کی
قانونی حیثیت ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ نواز شریف متعدد مواقع ملنے کے
باوجود اثاثوں کے ذرائع ثابت کرنے میں ناکام رہے اور کرپشن کے مرتکب پائے
گئے،نیب قوانین کے مطابق مذکورہ کرپشن کے باعث نواز شریف کا فعل قابل سزا
جرم ہے۔