وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے نیشنل ڈینسا یونیورسٹی کے نیشنل سیکیورٹی
اینڈ وار کورس کے 215 رکنی وفد کی ملاقات ہوئی،ملاقات میں چیف سیکریٹری
ممتاز شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم، آئی جی سندھ کلیم امام وصوبائی
سیکریٹریز کی شرکت کی ،وفد کی سربراہی میجر جنرل ایمن بلال صفدر اور ریئر
ایڈمرل زین ذوالفقار نے کی،
وزیراعلیٰ سندھ نے وار کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی نے
پورے ملک سمیت سندھ کی سوسائٹی کو بھی بری طرح متاثر کیا،سندھ کو یہ
اعزاز حاصل ہے کہ یہاں سے کوئی دہشتگرد پیدا نہیں ہوا،ہم نے ٹارگٹ آپریشن
شروع کیا، آج اللہ کا کرم ہے دہشتگردی، بھتہ خوری و ٹارگیٹ کلنگ کا خاتمہ
ہوا،
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کچھ کمزور پالیسیوں کی باعث توانائی بحران پیدا
ہوا،کوئی بھی عالمی برقی کمپنی تھر میں کام نہیں کرنا چاہتی تھی،ہم نے سندھ
حکومت کی ایک کمپنی بنائی اور اینگرو سے شراکتداری کی صورت میں تھر میں
کول مائننگ شروع کی،ہم نے پولیس میں بھرتیاں میرٹ کی بنیاد پر کی ہیں،10
ہزار پولیس اہلکار کی میرٹ پر بھرتی، انکی پاکستان آرمی سے تربیت، پولیس
کی تنخواہوں میں اضافہ، پولیس کو جدید اسلحے سے آراستہ کرنا ہماری
کامیابیاں ہیں