قومی
اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ شاید
تاریخ کا جبر ہے یا تاریخ رقم کی جارہی ہے، پہلا موقع ہے کہ اپوزیشن لیڈر
کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کیا گیا، میں یہاں مقدمے کے میرٹ یا فیکٹس پر
بات نہیں کروں گا بلکہ تحریک انصاف اور نیب کے الائنس پر بات کرنا چاہتا
ہوں، میری پارٹی یا اپوزیشن کو نیب نشانے پر لیے ہوئے ہے۔
قائد حزب
اختلاف نے کہا کہ چیئرمین نیب نے میرے گرفتاری کے احکامات 6 جولائی کو تیار
کیے اور کس وجہ سے وہ مؤخر ہوئے اس پر فیصلہ تاریخ کرے گی اور جب ضمنی
انتخابات کا وقت آیا تو وہ آرڈر جاری ہوئے تاکہ مقاصد حاصل کیے جائیں,وہ
نشستیں جو عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی جھولی میں گریں وہی سیٹیں صرف دو
ماہ کے عرصے میں کچھ ن لیگ نے جیتیں، کچھ پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم
ایم اے نے جیتیں۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ جو نشستیں عمران خان نے چھوڑیں
وہ بھی ہم نے جیتیں اور ثابت ہوگیا کہ انتخابات دھاندلی زدہ تھا، کبھی
ایسا ہوا کہ دو ماہ میں اتنی بڑی تبدیلی آجائے۔
قائد حزب اختلاف نے نیب
میں جاری تفتیش کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا اور ایوان کو بتایا کہ نیب
والے صاف پانے میں لے گئے اور آشیانہ میں گرفتار کیا اور تفتیش کے دوران
چین اور ترکی میں سرمایہ کاری سے متعلق سوالات پوچھے جارہے ہیں۔