ملتان :روایتوں کو توڑتی پاکستان کی پہلی خاتون مکینک
چوبیس سالہ عظمیٰ نواز نے مکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ان کا
تعلق ملتان کے چھوٹے سے گاؤں دنیا پور سے ہے جنہوں نے غربت اور مفلسی کو
شکست دیتے ہوئے اپنی تعلیم مکمل کی۔ اپنے خاندان کی مالی حالت بہتر بنانے
کے لیے فرسودہ خیالات کے برعکس جاکر اسے ایک چیلنج کے طور پر لیا۔
عظمیٰ نواز تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک برس سے ملتان میں نجی ادارے میں کام
کر رہی ہیں، جہاں ان کے سب مرد ساتھی ان کی ہمت، حوصلے اور عزم کو قابل
ستائش قرار دیتے ہیں۔عظمیٰ بتاتی ہیں کہ جب وہ گیراج میں کام کرتی ہیں تو
لوگ انہیں دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔
ان کے والد محمد نواز کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں گیراج میں لڑکیوں کا
کام کرنا ضروری نہیں، لیکن یہ عظمیٰ کا شوق تھا۔ وہ مشینوں کے ساتھ بہت لگن
سے کام کرتی ہے جسے دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔