div>وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ یہ ایک عجیب بات ہے کہ دنیا میں
دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں تو لوگ خوفزدہ ہوکر پیچھے ہٹ جاتے ہیں لیکن
پیپلز پارٹی کے کارکن ہوں یا پیپلز پارٹی کی قیادت ہو جب جب ان کے اوپر
آزمائش آئی ہے جب جب ان کی جانیں گئی ہیں، ان کے پیروکار پیچھے نہیں ہٹے
بلکہ مزید آگے بڑھے ہیں۔
سانحہ کارساز کی برسی کے موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کے
دوران سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ آج گیارہ برس گزرگئے ہیں لیکن ہماری
قیادت بلاول بھٹو زرداری کی صورت میں اسی جوش وجذبے کے ساتھ آگے جارہی ہے،
اسی سوچ ونظریئے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، ہمارے کارکنان اسی ولولے کے ساتھ
قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آج کے دن جب ہم شہیدو ں کو یاد کرتے ہیں تو آج کا
دن ان دہشت گردوں کی شکست کا بھی دن ہے کہ ان کی دہشت کے سامنے ہمارے سیاسی
کارکن جھکے نہیں بلکہ سینہ سپر کھڑے تھے اور آج بھی کھڑے ہیں۔
سعید غنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ چارٹ آف ڈیموکریسی آج بھی اپنی جگہ موجود
ہے۔ وہ اس وقت ضرور دو سیاسی جماعتوں کے درمیان ہوا تھا لیکن اگر اس پر غور
کیا جائے تو اس کا مقصد یہ تھا کہ ملک میں جمہوریت اور جمہوری ادارے مضبوط
ہوں لیکن آج احتساب کے نام پر لوگوں سے انتقام لیا جارہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں جو میثاق جمہوریت میں شامل نہیں تھیں
انہیں بھی اس ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کیلئے ان تمام چیزوں پر عمل
کرنا چاہیے جن پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا اتفاق ہوا تھا۔