وفاقی
وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ معاشی آزادی کے بغیر نیشنل سکیورٹی کا
کوئی تصور نہیں، میں کہوں پالیسی چینج ہواورپالیسی چینج نہ کرسکا توایک منٹ
کرسی پر نہیں بیٹھوں گا، خارجہ پالیسی میں ہماری پہلی ترجیح معاشی ضرورت
کو پورا کرنا ہے، بجلی پرسبسڈی ہٹا دیں توفی یونٹ بجلی کی قیمت6 روپے بڑھ
جائے گی۔
وفاق ایوانہائے صنعت وتجارت (ایف پی سی سی آئی) میں تاجروں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے
پٹرولیم مصنوعات پر بھی ٹیکس کم کیے ہیں۔ہم نے ایکسپورٹ انڈسٹری کیلئے بھی گیس کی قیمت نہیں بڑھائی۔ہم اوورسیز پاکستانیوں سے قرض لیکر ان کواچھا منافع ادا
کریں گے۔ جی آئی ڈی سی ختم نہیں کرسکتا لیکن اس پر
مشاورت ہوسکتی ہے۔
اسد عمر کا یہ بھی کہنا تھا کہ پانچ زیرو ریٹڈ سیکٹر کا دائرہ کار بڑھانا چاہتے ہیں۔ایکسپورٹ اور روزگار
کی فراہمی ایس ایم سی سیکٹر کے بغیر مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو ہزار ارب
ہم صرف کیش ٹو ڈپازٹ ریشو ایڈجسٹ کرکے حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمارے بینکوں کی قرض دینے کی صلاحیت ملکی ضرورت سے کم ہے۔ ایف بی آر نے بھی
درخواست کی ہے کہ ان کی ٹاسک فورس بنائی جائے۔
story&02
شہر قائد میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست پر کل ضمنی انتخاب کا معرکہ سجے گا۔
این اے 247 اور پی ایس 111 میں ضمنی انتخاب کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
پولیس، رینجرز اور فوج کی نگرانی میں پولنگ کا سامان عملے کے حوالے کئے
جانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ رات گئے تک متعلقہ پولنگ اسٹیشنز تک بیلٹ پیپرز
اور باکسز کی ترسیل کا عمل مکمل کرلیا جائے گا۔
حلقہ این اے 247 سے ڈاکٹر عارف علوی جب کہ پی ایس 111 سے عمران اسماعیل نے
عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم ڈاکٹر عارف علوی کے صدر مملکت
منتخب ہونے اور عمران اسماعیل کے گورنر سندھ بننے کے بعد یہ دونوں نشستیں
خالی ہوگئی ہیں۔
این اے 247 پر تحریک انصاف کے آفتاب صدیقی، ایم کیوایم کے صادق افتخار،
پیپلزپارٹی کے قیصر نظامانی اور پی ایس پی کے ارشد وہرہ کے درمیان مقابلہ
ہے۔ پی ایس 111 پر تحریک انصاف کے شہزاد قریشی، ایم کیوایم کے جہانزیب مغل،
پیپلزپارٹی کے فیاض پیرزادہ اور پی ایس پی کے یاسرالدین میدان میں ہیں۔
این اے247 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 46 ہزار 451 اور پی ایس 111
میں ایک لاکھ 78 ہزار 965 ہے۔ این اے 247 میں پولنگ کے لئے 240 جبکہ پی ایس
111 کے لئے 80 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں۔۔ الیکشن کمیشن کے مطابق
مجموعی طورپر 800 افراد پر مشتمل انتخابی عملہ پولنگ کے دوران فرائض
سرانجام دے گا۔ ان میں 80 پریذائیڈنگ افسران، 320 پولنگ افسران ، 320
اسسٹنٹ پریذائیڈنگ افسران شامل ہیں۔