امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک
کی تمام لوٹ مار اور عوام پر ظلم و زیادتی ، کے الیکٹرک ابراج گروپ اور
سابقہ حکومت کے حوالے سے میڈیا پر آنے والی حالیہ اطلاعات ، کے الیکٹرک کو
حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے ملنے والی سرپرستی اور حمایت ، اس کی
نجکاری کے عمل اور دو مرتبہ فروخت کر نے کے معاہدے کی تحقیقات اور مالیات
کی فرانزک آڈٹ کے لیے فوری طور پر ایک جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے اور اسے
قومی تحویل میں لیا جائے ۔ ہم چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار سے اپیل
کرتے ہیں اس اہم قومی معاملے پر جماعت اسلامی کی دائر کی گئی درخواست کی فوری شنوائی کی جائے تا کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے
اور قوم کو لوٹنے والوں کی گرفت ہو اور کراچی کے شہریوں کو ریلیف مل سکے۔
ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمنٰ کا کہنا تھا کہ ہم پی ٹی آئی حکومت کو بھی متنبہ کرتے ہیں کہ
کے الیکٹرک کے ٹیرف میں اضافے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ۔ نیپرا
بھی اپنے فیصلے پر قائم رہے جو ادارہ 40ارب روپے سالانہ منافع کما رہا ہے
اور عوام کی کوئی سہولت نہیں دے رہا اس کے نرخوں میں اضافے کا کیا جواز ہے
۔
حافظ نعیم الرحمنٰ نے کہا کہ صرف جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس
نے کے الیکٹرک کے خلاف عوام کی تر جمانی کی ہے اور اس کی لوٹ مار کو بے
نقاب کیا ہے ورنہ تمام جماعتیں اور حکومتیں کے الیکٹرک کی سہولت کار رہی
ہیں اور آج بھی اس کی حمایت اور سر پرستی کا سلسلہ جاری ہے ۔
02 & STORY
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارسے مختلف شہروں سے آئے لوگوں نے ملاقات
کی۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار
عثمان بزدار نے چار سو سے زائد لوگوں کے مسائل سنے اور عوامی مسائل کے حل
کیلئے موقع پر ہی احکامات بھی جاری کئے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان
بزدار کا کہنا تھا کہ میں صوبے کے عوام کی خدمت کے لئے ہر وقت حاضر
ہوں۔میرے دروازے کھلے ہیں اور عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کر رہے
ہیں۔میرے وزیر بھی مکمل با اختیار ہیں۔ موجودہ حکومت عوام کے مسائل کے حل
کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں کو
سہولتیں دینا ہماری ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری بطریق احسن ادا کریں گے
،صبح ہو یا شام میرا ہر وقت عوام سے رابطہ رہتا ہے۔ماضی میں صرف عمارتیں
کھڑی کی گئی ،عوام کی سہولت کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔
وزیر
اعلیٰ پنجاب کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے آتے ہی یہ فرسودہ نظام بدلا
ہے۔عوام کے مسائل حل کرنے والے افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔اس ضمن
میں کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کروں گا۔