اسلام آباد، سی پیک کی تکمیل سے پورے خطے کی بھلائی مقصود ہے، شاہ محمود قریشی
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اس وقت میں پارلیمنٹ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ تینوں دہشت گرد جو حملہ آور ہونے کی کوشش کررہے تھے، ان کے عزائم تو بڑے واضح دکھائی دیتے ہیں ، یقیناًً وہ وہاں جانی نقصان پہنچانا چاہتے ہوں گے، یقیناًً وہ خوف پیدا کرنا چاہتے ہوں گے تاہم ان کے عزائم خاک میں ملادیئے گئے ہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ میں یہاں رینجرز اور پولیس کو خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گا، قونصلیٹ میں اکیس کے قریب چینی اہلکار موجود تھے اور الحمدو اللہ سب محفوظ ہیں، ان میں سے کوئی یرغمال ہوسکا نہ زخمی ہوا اور نہ ہلاک ہوا جو کہ اطمینان کی بات ہے۔ انہیں وہاں سے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے سفیر سے دفتر خارجہ نے رابطہ قائم کیا اور بات کی۔ یہ ساری اطلاعات ہم نے جو ہمارا بیجنگ میں سفارتخانہ ہے ان کو بھی پہنچادی ہیں اور انشاء اللہ میں پہلی فرصت میں چین کے وزیر خارجہ سے رابطہ کرکے ساری صورتحال سے آگاہ کروں گا۔
شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ قوتیں ایسی ہیں جسے روز اول سے سی پیک کے منصوبے کھٹک رہے ہیں تاہم پوری قوم اس پر متفق ہے۔ سی پیک نہ صرف پاکستان اور چین کی ضرورت ہے بلکہ اس کی تکمیل میں پورے خطے کی بھلائی مقصود ہے۔ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو ہمارے تعلقات کو ایک نیا رخ دے رہا ہے۔ یہ منصوبہ معاشی رنگ دے رہا ہے۔ معاشی سرگرمیوں کا ذریعہ بن رہا ہے لیکن یہ بہت سے لوگوں کو کھٹکٹا ہے، جو نہیں چاہتے اس ملک میں استحکام ہو اور مالی خوشحالی ہو، وہ اس قسم کی مذموم حرکتیں گاہے بگاہے کرتے رہتے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان قوتوں کو یہ باور کرنا چاہتا ہوں کہ چین اور پاکستان کی دوستی لازوال ہے۔ ہم دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں، ہم میں صلاحیت اور قوت بھی موجود ہے۔ کبھی ہم ان کو آڑے نہیں آنے دیں گے، یہ منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچیں گے، یہ پاکستان کی خوشحالی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے سودمند ثابت ہوں گے۔