وزیرا علیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وفاقی
وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا چینی قونصلیٹ پر حملے کے فوراً بعد جائے
وقوعہ پر پہنچے۔
اس موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرا علیٰ
سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آج صبح دس گیارہ بجے کے قریب ایک
واقعہ ہوا ہے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق تین دہشت گرد ایک سفید لیانا
گاڑی میں آئے اور وہ پیدل چلتے ہوئے قونصلیٹ کی طرف بڑھے لیکن پولیس نے
انہیں پہلے رسپانس کیا جس کے نتیجے میں ہم دو پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔
اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کے پاس دھماکہ خیز مواد تھا اور وہ ان کا رادہ
تھا کہ قونصلیٹ کے اندر گھس جائیں لیکن پولیس اور رینجرز نے انہیں اندر
گھسنے نہیں دیا۔
وفاقی وزیر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ میں خود آپریشن کا حصہ تھا، میرے پاس
اطلاع پہلے آگئی تھی، جس پر میں نے وزیر اعظم عمران خان کو بھی آگاہ کیا،
اس کے علاوہ میں نے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت سے درخواست کی ہے کہ
پولیس کو ریوارڈ دیا جائے کیونکہ پولیس نے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔
انہوں نے میڈیا مالکان سے بھی درخواست کی کہ وہ اس طرح کے کوریج کرنے والے صحافیوں کو کم از کم بلٹ پروف جیکٹس فراہم کریں ۔
اس موقع پر گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ آج افسوسناک واقعہ بڑے
عرصے کے بعد کراچی میں دہشت گرد حملے کی صورت میں سامنے آیا تاہم زبردست
حکمت عملی کے ساتھ پولیس ،رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے
بڑی کامیابی اور کم از کم نقصان کے ساتھ آپریشن کو مکمل کیا، ہم اللہ کے
شکر گزار ہیں جس نے ہمت دی اور حوصلہ دیا۔ یہ ایک تخریبی کارروائی تھی اور
یہ پاکستان کا سب سے بڑا ایونٹ آئیڈیاز اور سی پیک کے منصوبہ کو سبوتاژ
کرنے کی سازش ہے۔