مانچسٹر:زمین پرزندگی سے بڑا تحفہ نہیں اورپانی کے بغیر زندگی کا تصورنہیں‘ چیف جسٹس
مانچسٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ پاکستان کوسیدھےاوردیانت دارانہ حکومتی نظام کی ضرورت ہے۔ پاکستان آج پانی کی قلت سے شدید متاثرممالک میں شامل ہے، بدقسمتی سے ہم نے پانی کی قدرنہیں کی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کوئٹہ میں شاید5 سے7 سال میں زیرزمین پانی نہ ملے، سب سے پہلے سندھ میں پانی کے مافیا کوتوڑنے کی کوشش کی۔ سمندرمیں گرائے جانے والے 50 فیصد گندے پانی کی صفائی کا تقاضہ پورا کرچکے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک ٹریٹمنٹ پلانٹ کا افتتاح ہوچکا ہے،25 دسمبرکوکراچی میں ایک اور ٹریٹمنٹ پلانٹ کا افتتاح کریں گے۔ کالاباغ ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ 1956میں تیارکی گئی تھی، کالاباغ ڈیم کی تعمیر پرجب کوئی تنازع نہ تھا تو کیوں نہیں بنایا۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ پاکستان میں پانی کا بحران آنا ہے، سب کو یہ بات معلوم تھی، قومی مفاد کے معاملے پرچاروں صوبائی بھائیوں کا اتفاق ضروری ہے، دیا میربھاشا ڈیم پر تمام صوبوں کا اتفاق ہے۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ باہر گیا پیسہ پاکستان کی امانت ہے، پیسہ واپس آکرڈیم کی نذر ہو تو کسی سے مانگنےکی ضرورت نہیں۔ پاکستان میں آبادی بڑھ رہی ہے اوروسائل سکڑرہے ہیں، بڑھتی آبادی کوکنٹرول کرنے کے لیے اگلے ماہ سے مہم چلائیں گے۔