کوئٹہ، کراچی میں چینی قونصلیٹ حملے میں شہید کوئٹہ کے باپ بیٹے کو آہوں سسکیوں میں سپرد خاک کر دیا گیا
کراچی میں چینی قونصلیٹ حملے میں شہید کوئٹہ کے باپ بیٹے کو آہوں سسکیوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
کوئٹہ کے علاقے پشتون آباد کے رہائشی تاجر نیاز محمد اپنے 26 سالہ بیٹے کے ہمراہ کراچی کے چینی قونصلیٹ میں ویزے کے سلسلے میں گئے تھے جہاں دہشگردوں کے حملے میں دونوں باپ بیٹا شہید ہوگئے، نیاز محمد اور ظاہر شاہ کی میتیں کوئٹہ لائی گئیں جہاں باپ بیٹے کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مشترقی بائی پاس قبرستان میں تدفین کر دی گئیں۔
نیاز محمد نے سوگواران میں تین بیٹے اور 7 بیٹیاں چھوڑی ہیں جبکہ ظاہر شاہ کی 2 بیٹیاں ہیں، نیاز محمد اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔ نیاز محمد کے بیٹے داؤد کا شکوہ تھا کہ دونوں شہداء کی میتیں رات گئے حوالے کی گئیں جبکہ میتوں کی کوئٹہ منتقلی کیلئے ایمبولینس بھی فراہم نہیں کی گئی۔ دوسری جانب بلوچستان حکومت نے بھی ان سے رابطہ نہیں کیا۔
لواحقین کے مطابق اس سے قبل بھی باپ بیٹا کاروبار کے سلسلے میں چین آتے جاتے رہے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں شہداء کو شہید پولیس اہلکاروں کے برابر درجہ دیا جائے۔
دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہونے والے شخص کے بھائی حبیب کا ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ویزے کے فنگر پرنٹس کیلئے کل میرے بھائی کو چینی قونصلیٹ بلایا گیا تھا۔ نو بجے کا وقت تھا تو ہمیں حملے کی خبر ملی جس کے بعد ہم نے اپنے بھائی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا فون بند تھا البتہ میرے بھتیجے کا فون کھلا ہوا تھا لیکن کسی نے کال کو اٹھایا نہیں تاہم ہم نے اپنے رشتہ داروں سے رابطہ کیا تو وہ ہسپتال پہنچے وہاں جاکر دیکھا تو دونوں شہید پڑے تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کل سارا دن ہیلے بہانوں سے کام لیا، ہمیں کوئی ایمبولینس نہیں دی گئی ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت جنازے یہاں تک پہنچائے۔ اس کے علاوہ حکومت بلوچستان نے بھی کوئی تعاون نہیں کیا۔ ہم حکومت سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں انصاف فراہم کرنے کیلئے واقعے کی فوری تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔