لاہور، میثاق جمہوریت امریکی اسٹیبلشمنٹ نے کرایا، فیاض الحسن چوہان
وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ میثاق جمہوریت امریکی اسٹیبلشمنٹ نے کرایا، میثاق جمہوریت کے بیس نکات میں سے ایک نکتہ یہ تھا کہ بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی مخاصمت نہیں رکھی جائے گی۔
لاہور کے مقامی ہوٹل میں طارق اسماعیل ساگر کی کتاب کی رونمائی کے موقع پر فیاض الحسن چوہان کا مزید کہنا تھا کہ ممبئی حملہ چھبیس گیارہ کا اصل مقصد پاک فوج کے کردار کو عالمی دنیا میں مشکوک بنانا تھا۔ 26/11 کے تحت ممبئی وقوعے کے اختتام پر اجمل قصاب کے نام پر ایک شخص بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے پکڑ کر پوری دنیا کے سامنے رکھا لیکن ہر شخص اپنی عینک کے مطابق چیزیں دیکھنے کا روادار ہوتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کتنی عجیب بات ہے کہ وہ اجمل قصاب جس کو فرید کوٹ اوکاڑہ کا شہری ثابت کرنے کیلئے ہمارے ملک کے سابق وزیر اعظم نے بھی زمین آسمان ایک کردیا ۔ 2010ء میں نیویارک ٹائمز کی رپورٹر نے نواز شریف کا انٹرویو کیا، نواز شریف اس وقت میثاق جمہوریت کے تحت اگلے وزیر اعظم بننے کے امیدوار تھے، وہ میثاق جمہوریت کہ جسے امریکن اسٹیبلشمنٹ نے کنڈولیزا رائس کی سرپرستی میں کرایا تھا، جس کے بیس نکات میں سے ایک نکتہ یہ تھا کہ بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی مخاصمت نہیں رکھنی، میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے والوں میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور ان کے اتحادی شامل تھے۔
فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے تحت سمجھایا گیا تھا کہ بھارت آئندہ پندرہ سالوں میں جو بھی کچھ کرے اچھا کرے یا برا کرے آپ نے مخاصمت نہیں کرنی اور اس سے تعلق نہیں بگاڑنا، بھارت کے منفی رویئے کو بھی عالمی سطح پر اجاگر نہیں کرنا اور یہی وجہ تھی کہ اسی سوچ کے تحت 26/11 ہوا تو رحمن ملک نے خون بہنے والوں کا خون خشک نہیں ہوا ہوگا وہاں پر تسلیم کرلیا تھا وہ سارے کے سارے پاکستانی تھے۔