کراچی، کراچی ایڈیٹرز کلب کے تحت میڈیا انڈسٹری کو درپیش بحران پر اجلاس کا انعقاد
کراچی ایڈیٹرز کلب (کے ای سی) کے زیر اہتمام میڈیا انڈسٹری کو درپیش بحران ، میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور تاخیر، آزادی اظہار رائے کے تحفظ کے حوالے سے اجلاس منعقد کیا گیا۔ کراچی ایڈیٹرز کلب کے ستائیسوے اجلاس میں حکومت سندھ کے محکمہ اطلاعات کے سیکریٹری عمران عطا سومرو نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔علاوہ ازیں اجلاس میں سینئر صحافیوں آغامسعود، شہاب الدین شہاب، مختار بٹ، مبشر میر، دانشوروں، بینکنگ سیکٹر کے نمائندوں، مختلف این جی اوز کے سرپرست اعلیٰ اور دیگر معززین بھی شریک تھے۔
اجلاس میں میڈیا انڈسٹری کو درپیش بحران ، میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور تاخیر پر سیر حاصل گفتگو کے علاوہ آزادی اظہار رائے کے تحفظ پر زور دیا گیا۔
مبشر میر نے ایڈیٹرز کلب کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ملک میں انویسٹی گیٹو جرنلزم کیلئے بڑے مسائل ہیں۔ ذرائع کے حوالے سے خبر یں چلانا پڑتی ہیں حکومت اس ضمن میں ہماری مدد کرے اور ایک ایسا ریسورس سینٹر قائم کرے جس کے ذریعے انفارمیشن تک رسائی ممکن ہوسکے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جی ایم جمالی کا کہنا تھا کہ میڈیا میں بقایا جات کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اصل مسئلہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کا ہے۔ یہ سوچا جائے کہ اشتہارات بند ہونے سے مالکان مسئلے کا شکار ہوجائیں گے تاہم اس حوالے سے اگر کوئی مسئلہ ہے تو ورکرز کے ساتھ اس ضمن میں مذاکرات کئے جانے چاہئیں اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے فورم پر اس مسئلے کو اٹھایا جانا چاہیے تاکہ ایک موثر آواز سامنے آسکے۔
اجلاس میں شریک نیشنل بینک آف پاکستان کے ترجمان ابن حسن کا کہنا تھا کہ کراچی ایڈیٹرز کلب ایک بہت ہی منفرد ادارہ ہے جو کہ میڈیا کے لئے عملی طور پر کام کررہا ہے، عام طورپر اس طرح کے اجلاس تو بہت ہوتے ہیں تاہم عملی طور پر کوئی سیر حاصل نتیجہ نہیں نکل پاتا لیکن کراچی ایڈیٹرز کلب کی یہ کاوش بہت مثبت ہے ، اس طرح کی کانفرنس متواتر جاری رہیں تو میڈیا کے تمام مسائل حل ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیکریٹری اطلاعات مبارکباد کے مستحق ہیں ، انہوں نے بہت ساری باتیں کی ہیں اور اگر ان پر عملدرآمد ہوتا ہے تو یقیناًمیڈیا کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے۔ آج مجھے اس اجلاس میں شرکت کرکے فخر محسوس ہورہا ہے، اجلاس میں سینئر صحافیوں منظر نقوی ، مبشر میر، آغا مسعود اور مختار عاقل سمیت دیگر سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔ کراچی ایڈیٹرز کلب کے ہاتھ مزید مضبوط ہونے چاہئیں، انکی کاوشوں پر تمام اداروں کو ساتھ دینا چاہیے۔
حکومت سندھ کے محکمہ اطلاعات کے سیکریٹری عمران عطا سومرو کا کہنا تھا کہ اجلاس میں کوئی بڑے فیصلے تو نہیں ہوئے تاہم کچھ تجاویز ضرور سامنے آئی ہیں، جن پر غور کرکے حکومت سندھ اقدامات اٹھائے گی، سرکاری اداروں کی جانب سے جن میڈیا ہاؤسز کو واجب الادا رقم رکی ہوئی ہیں کوشش ہوگی کہ ایک ماہ کے اندر اندر جاری کردی جائیں کیونکہ ادارے بل ادا نہ ہونے کی وجہ سے ہی ملازمین کو تنخواہ نہیں دے پارہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صحافیوں کی انشورنس کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔