کوئٹہ، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ٹیکس اور نان ٹیکس محاصل میں اضافے کیلئے ریفارم ایکشن پلان کی منظوری دیدی
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبے کے ٹیکس اور نان ٹیکس محاصل میں اضافے کے لئے محکمہ خزانہ کی جانب سے تیار کئے گئے ریفارم ایکشن پلان کی منظوری دے دی گئی۔ صوبے کی تاریخ کا یہ پہلا اجلاس ہے جس میں اخراجات کا جائزہ لینے کی بجائے محاصل میں اضافے کے ذرائع کا جائزہ لیا گیا اور یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ جلد ریسورس موبلائزیشن کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔
ریفارم ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے متعلقہ محکموں کو محکمہ خزانہ کی جانب سے فراہم کی گئی گائیڈ لائنز کے مطابق ضروری قانون سازی اور تجاویز وسفارشات کی تیاری کی ہدایت بھی کی گئی۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیاگیا کہ نیم خودمختار اداروں کو چلانے کے لئے حکومت کو کثیر گرانٹس فراہم کرنا پڑتی ہیں تاہم ان اداروں میں اصلاحات کے نفاذ کے ذریعہ انہیں خودانحصار اور منافع بخش بنایا جاسکتا ہے۔
اجلاس میں معدنیات، ماہی گیری، زراعت، صنعت، توانائی اور تجارتی زونز کے قیام سے بھی اتفاق کیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ بوستان اور خضدار انڈسٹریل زونز کے قیام کے منصوبوں کی جلد ازجلد تکمیل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہر محکمہ اور ادارہ محاصل کے اضافے کے لئے اپنا ایکشن پلان بنائے اور اس حوالے سے دیگر صوبوں کے تجربات سے بھی استفادہ کیا جائے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئندہ آنے والا دور بلوچستان کا ہے اور مستقبل کے مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے ابھی سے تیاری کرنے کی ضرورت ہے، ہم خوش قسمت ہیں کہ صوبے کی آبادی کم اور وسائل زیادہ ہیں، بلوچستان مستقبل قریب میں اپنے قدرتی وسائل، ساحلی پٹی اور جغرافیائی محل وقوع کے ذریعے پاکستان کی معاشی واقتصادی ترقی کی بنیاد ثابت ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وسائل اور اراضی کی بنیاد پر نجی شعبہ کے ساتھ شراکت داری کے فروغ کے ذریعہ صوبے کی آمدن میں اضافہ ممکن ہے۔