لاہور:آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار شہباز شریف کے مزید ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ سنا دیا گیا
احتساب عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے مزید ریمانڈ سے متعلق محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا۔سابق خادم اعلیٰ پنجاب کے جسمانی ریمانڈ میں 6 دسمبر تک توسیع کر دی گئی
سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کے سلسلے میں 5 اکتوبر سے نیب لاہور کی تحویل میں ہیں۔احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے شہباز شریف کے خلاف کیس کی سماعت کی۔
نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ اور اسد اللہ جبکہ شہباز شریف کی جانب سے ان کے وکیل امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پرنیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ پراجیکٹ میں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اُن پر بطور وزیراعلیٰ قومی خزانے کو کڑوروں کا نقصان پہچانے کا الزام ہے۔تفتیشی افسر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز شریف کو 2011 میں جو گفٹ دیئے گئے، اس کا ریکارڈ موجود نہیں، ٹیکس ریٹرن ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں کہ 6 کروڑ کے گفٹ کیسے دیئے؟
دوران سماعت نیب کے تفتیشی افسر نے کہا کہ میڈیکل کے حوالے سے شہباز شریف کو جیسا بھی ٹریٹمنٹ چاہیے وہ دینے کے لیے تیار ہیں۔جس پر شہباز شریف نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے تمام میڈیکل ٹیسٹ اور چیک اپ اسلام آباد کے پمز اسپتال میں ہو رہا ہے، لہذا عدالت پمز میں علاج جاری رکھنے کا حکم دے۔
شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور عدالت آنے والے تمام راستے کنٹینر اور خاردار تار لگا کر بند کردیے گئے۔