Nov 30, 2018 09:35 pm
views : 426
Location : Accountability Courts
Islamabad- Alazizya Flagship Reference to be held Monday
اسلام آباد، العزیزیہ اسٹیل ریفرنس، استغاثہ کے دلائل پر نوازشریف کو وضاحت دینے سے روک دیا گیا
احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت کے دوران
نیب پراسیکیوٹر کے دلائل کے دوران نوازشریف کو وضاحت دینے سے روک دیا۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے
خلاف العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت کی، سماعت کے آغاز پر نوازشریف
روسٹرم پر آگئے، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ روسٹرم پر کھڑے ہو کر
استغاثہ کے دلائل سننا چاہتے ہیں۔ عدالت نے انہیں روسٹرم پر کھڑے ہونے کی
اجازت دے دی۔
عدالت نے پراسیکیوٹر کے دلائل کے دوران نوازشریف کو وضاحت دینے سے روک دیا،
فاضل جج نے کہا کہ ضابطے کے مطابق پراسیکیوشن کے دلائل کے بعد آپ کے وکیل
دلائل دیں گے، خواجہ حارث کے دلائل کے بعد ضرورت ہوئی تو آپ کو بھی سن لیں
گے۔
نیب پراسیکیوٹر کے دلائل کےدوران سابق وزیراعظم نوازشریف پھر روسٹرم پر
آگئے، انہوں نے کہا کہ یہ منی ٹریل کا پوچھتے ہیں، منی ٹریل تو 1973 سے
شروع ہوتا ہے ، یہ اس وقت کی بات ہے جب دبئی میں گلف اسٹیل مل لگائی گئی،
اس اثاثے کے بعد دوسرے اثاثے بیرون ملک بنائے گئے، اس کا تو کسی نے منی
ٹریل کا نہیں پوچھا، پہلے ان سے پوچھیں کہ مقدمے کا سر پیر ہے یا نہیں۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بے شمار والدین کے بیٹے دنیا میں کام کرتے ہیں ،
ہر بیٹا اپنے باپ کو پیسے بھیجتا ہے، باپ کو پیسے دینا بیٹے کے لئے اعزاز
ہے، کیا پیسے بھیجنے سے ثابت ہوتا ہے کہ میں مالک ہوں، یہ میرے مالک ہونے
کا ثبوت تو دیں، ان کے پاس ثبوت ہوتا تو دیتے۔