ملتان: بھارتی آرمی چیف کا بیان بے معنی ہے، وزیر خارجہ
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کرتار پور راہداری کو پوری دنیا میں سراہا گیا اور دونوں جانب سے اس پر آمادگی کا اظہار کیا گیا، بھارت نے اپنے دو وزراء کو بھیجا، ہماری خواہش تھی کہ بھارتی وزیر خارجہ اور وزیراعلیٰ پنجاب بھی آتے لیکن یہ اچھی شروعات ہوئی ہے، اس کو مثبت انداز میں لینا چاہیے، اس سے تعلقات میں بہتری کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔
بھارتی آرمی چیف کے پاکستان کے سیکولر ہونے سے متعلق بیان پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی فوج کے سربراہ کا بیان بے معنی ہے، پاکستان اسلامی مملکت ہے اور ایک نظریے کے تحت وجود میں آیا، ان کے بیان سے ہمارا نظریہ تبدیل نہیں ہوگا۔
ڈالر کی قدر پر بات کرتے ہوئے شاہ محمود کا کہنا تھا کہ ڈالر بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں اور کچھ قیاس آرائیاں ہیں، مارکیٹ میکنزم میں ایک طریقہ تلاش کرنا ہوتا ہے اس کا اثرآیا ہے، ہم نے دیکھنا ہے برآمدات میں اضافہ کیسے کیا جاسکتا ہے، جب برآمدات میں اضافہ ہوگا تو زرمبادلہ میں بھین اضافہ ہوگا لہٰذا کوشش کررہے ہیں اور یہ مشکل فیصلے ہیں۔
علیمہ خان سے متعلق سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے بلا تفریق احتساب کی بات کی ہے، عدالتیں آزاد ہیں اور ہم ان کا احترام کرتے ہیں، کسی شخصیت کو بلایا جاتا ہے تو اس کا فرض بنتا ہے وہ اپنا جواب دے، ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھیں گے، کسی کو بے جا رعایت نہیں دی گئی اور نہ دی جائے گی۔