اسلام آباد،امریکا افغانستان میں امن کیلئے ہماری مدد چاہتا ہے،وزیر اعظم
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے اپنا احتساب عوام کے سامنے کرنا چاہتا ہوں،امریکا افغانستان میں امن کیلئے ہماری مدد چاہتا ہے، ڈومور کے بجائے ہمارا کردار افغانستان میں قیام امن تھا، کسی کی جنگ لڑنے کیلئے ہمیں مدد دی جاتی رہی، افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا 15 سال سے کہہ رہا تھا افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، اللہ کا شکر ہے اب ہم کسی کی جنگ نہیں لڑ رہے،ہمارا اصل کردار سامنے آرہا ہے ،خوشی ہوئی کہ زلمے خلیل زاد سے ملاقات ہوئی، زلمے خلیل زاد کو امریکی صدرٹرمپ نے افغان مفاہمتی عمل کیلئے بھیجاتھا، ہم افغانستان میں مفاہمی عمل کے ذریعے امن قائم کرنےکی کوشش کریں گے،ان کا کہناتھا کہ یمن میں قیام امن کیلئے ایران اورسعودی عرب سے بات کی، یمن میں قیام امن کی پوری کوشش کریں گے، کسی کی جنگ کاحصہ بننے کے بجائے ثالثی کو کرداراداکرنےکاموقع ملاہے۔
وزیر اعظم نے کہا بھارت نے کرتارپور راہداری کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی، سکھ برادری کے ردعمل پر بہت خوشی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا اپنی معاشی ٹیم کو شاباش دینا چاہتا ہوں، ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بھاری سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، معاشی ٹیم نے ایسا ماحول بنایا کہ سرمایہ کار آرہے ہیں۔