لاہور،رنگ آف پاکستان میں صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے لئے غیرملکی ریسلرز پرجوش
ریسلنگ رنگ آف پاکستان کے مقابلوں کے لئے آئے غیر ملکی ریسلرز اپنا جوش دکھانے کو تیا رہیں،لاہوریوں کی مہمان نواز ی نے پہلوانوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے،قبل ازیں ریسلرز نے لاہور کے مشہور مقامات کی سیر بھی کی ،رنگ آف پاکستان میں پہلوان کراچی اور لاہور میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے،ریسلرز کا کہنا ہے کہ پاکستان آکر بہت اچھا لگ رہا ہے۔
رنگ آف پاکستان کےمنتظمین پر امید ہیں کہ وہ ملک میں پروفیشنل ریسلنگ متعارف کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
خاتون ریسلر میلاسمیڈ کا ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں نے بارہ سال کی عمر میں اولمپک ریسلنگ میں حصہ کیا تھا، پاکستان میں آکر بہت اچھا لگ رہا ہے،غیر ملکی پہلوانوں کی صوبائی دارالحکومت میں بھرپور پزیرائی کی جارہی ہے۔
کیسس پنالی کا کہنا تھا کہ میں نے میکسکو میں وکٹوریہ ورلڈ کپ میں حصہ لیا تھا،دنیا کے مختلف ملکوں میں جا چکی ہوں پاکستان آنے کا تجربہ بہت اچھا رہا۔
ٹائنی آئرن کا کہنا تھا کہ پاکستان آنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے جبکہ یہاں آکر بہت خوشی ہوئی ہے،یہاں کے لوگ مہمان نواز ہیں جبکہ یہاں کی جگہیں بہت زردست ہیں۔
رنگ آف پاکستان کے سی ای او سید عاسم علی شاہ کا کہنا تھا کہ اگر ہم پاکستان مین ریسلنگ کا ذکر کریں تو اس میں محمد حسین انوکی کا نام سر فہرست ہے جبکہ ہم ایک بار پھر سے پاکستان میں ریسلنگ کا آغاز کرنے جا رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں اس کھیل کے شائقین موجود ہیں پاکستان میں یاک نیا برانڈ اور انڈسٹری متعارف کرناے جا رہے ہیں،ہمیں امید ہے کہ ہم پاکستان میں ریسلنگ کی صورت میں ایک نئی اور بڑی انڈسٹری تشکیل دیں گے۔