کراچی،سپریم کورٹ کے حکم کی نفی کی جارہی ہے، فاروق ستار
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے سابق رکن فاروق ستار کا کہنا ہے کہ وزیرا علیٰ سندھ، وزیر بلدیات اور میئر کراچی نہ صرف کاروباری اور تاجر افراد پر ظلم کے پہاڑ ڈھا رہے ہیں بلکہ عدالت عظمیٰ کی توہین کی مرتکب بھی ہورہے ہیں۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ روزگار چھیننا، محنت کشوں کے گھروں کے چولہوں کو بند کرنا، انہیں اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ اپنے بچوں کو مناسب اور اچھے اسکولوں سے اٹھالیں یہ کہاں کا انصاف ہے۔ ان کاروباری اور تاجر افراد کے بچوں کو تعلیم سے محروم کرنا اتنا بڑا ظلم اور اتنی بڑی ناانصافی ہے جو کہ میئر کے ایم سی وسیم اختر ، کے ایم سی کے افسران ،حکومت سندھ کے وزیر اعلیٰ سیدمراد علی شاہ ، وزیر بلدیات سعید غنی اور حکومت کی انتظامی مشینری جس طرح کے ظلم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے ۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت توہین عدالت عظمیٰ کی مرتکب ہورہی ہے ،سپریم کورٹ کے حکم کی نفی کی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ کے آرڈر میں چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے صرف ناجائز قابضین اور تجاوزات کو ہٹانے کیلئے حکم دیا ہے جس کا مطلب اور مقصد یہ ہے کہ اگر جو ٹھیلے والے ہیں، اسٹال والے ہیں، فٹ پاتھ پر یا سڑک پر آگئے ہیں اور وہاں تک پتھارے لگ گئے ہیں تو پھر یہ تجاوزات کے زمرے میں آتے ہیں انہیں ناجائز قابضین کہا جاسکتا ہے اور اگر ان کے خلاف آپریشن ہو تو اس میں بھی ایک انسانی مسئلہ ہے۔ اس میں بھی لاکھوں افراد بے روزگار ہورہے ہیں، تجاوزات کو بھی اگر ہٹایا جائے گا تو اس میں بھی لوگ بے روزگار ہوں گے۔