آج پوری دنیا میں انسداد بدعنوانی کا عالمی دن منایا جارہا ہے جس کا مقصد
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کرپشن کو روکنے کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات بھی
اٹھانا ہے جس سے کرپشن کے محرکات پر قابوپایا جاسکے۔
انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے حوالے سے
مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 177ممالک
نے اقوام متحدہ کی جانب سے کرپشن کے خاتمے کیلئے متحد ہونے کا عہد کیا ہے
تاہم پھر بھی کرپشن پر قابو نہ پایا جاسکا اور ہر سال کرپشن بڑھتی ہی جارہی
ہے۔
کرپشن صرف غریب ممالک میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے امیر ترین ممالک بھی کرپشن
کی شدید زد میں ہیں۔
پاکستان
میں بدعنوانی کے خاتمے کیلئے قائم قومی ادارے نیب کی طرف سے کرپشن
کے خلاف ایک ملک گیر مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔ ملک بھر کی سڑکوں پر سے نو
ٹو کرپشن پر مبنی نعروں والے بینرز اور پوسٹرز بڑی تعداد میں لگائے
گئے ہیں
اس
حوالے سے ایک شہری منیر احمد کا کہنا تھا کہ ہماری تو دعا ہے کہ حکومت
عالمی یوم انسداد بدعنوانی کے دن مثال قائم کردے، انتخابات کے دوران کہا
گیا کہ سابقہ حکمران کرپٹ ہیں کرپشن کرتے ہیں لہٰذا انہیں گرفتار کرکے نشان
عبرت بنادیا جائے تاکہ آنے والے دور میں کرپشن کی کوئی جرات نہ کرسکے۔ یہ
وہی لوگ ہیں جو پھر گھوم پھر کر نئی حکومت میں آجاتے ہیں۔ جب تک ان لوگوں
کو سزائیں نہیں ہوگی ہمارا ملک ترقی نہیں کرسکتا۔
ایک اور شہری میر حسن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے جو حالات ہیں مجھے دن بہ
دن بہتری کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس میں حکومت کا زیادہ کردار
ہے، حکومت جو اقدامات اٹھارہی ہے وہ عوام کی بھلائی کیلئے ہے۔ پاکستان
تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان انشاء اللہ دو سالوں میں بہت اچھا ملک
بن کر ابھرے گا یہاں پر کرپشن ختم ہوجائے گی۔