لاہور،تجاوزات کی آڑمیں جائزتعمیرات توڑنے کیخلاف غریب خاندانوں کا احتجاج
تجاوزات کیخلاف آپریشن نے لاہور کے علاقہ میردربارصاحب اور قریبی قبرستان سے ملحقہ آبادی کے مفلس، قلاش اورغریب خاندانوں کی رات کی نیندیں حرام کردی ہیں، اہل علاقہ نے تجاوزات کیخلاف جاری آپریشن کو انتقامی کارروائی قراردیتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ سمیت ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ غریبوں سے ان کی چھت نہ چھینی جائے بلکہ جن کی جائز تعمیرات ہیں ان کو بھی ناجائز قرار دیکر گرانے سے بچایاجائے۔
غریب خاندانوں کی جانب سے احتجاج کرنے والوں میں شامل ایک خاتون کا کہنا تھا کہ تجاوزات کیخلاف جاری آپریشن سے پہلے ان کے گھروں کے کاغذات چیک کرلئے جائیں وہ جھوٹ نہیں بول رہیں،ان کے چھوٹے بچے اورصرف بیٹیاں ہی ہیں،خاتون نے گھر کے کاغذات دکھاتے ہوئے بتایاکہ ان کے چھوٹے چھوٹے گھر تجاوزات کی زد میں نہیں آتے کیونکہ ان کے گھر قبرستان کی حدود سے دور ہیں،ان کے سر سے گھر کی چھت نہ چھینی جائے۔
انہوں نے عمران خان سے اپیل کی کہ وہ غریبوں کونوکریاں اورروزگار دینے کا اپنا وعدہ پورا کریں،ہمیں انصاف دیا جائے اورظلم سے بچایاجائے۔
احتجاج میں شریک مبارک علی نے بتایاکہ ان کے والد محکمہ اوقاف کے ملازم تھے جن کے انتقال کے بعد محکمہ اوقاف نے گھر ان کی والدہ کے نام الاٹ کردیاتھا،ان کے پاس الاٹمنٹ سمیت تمام کاغذات موجود ہیں،الاٹمنٹ کے بعد انہوں نے محکمہ کی اجازت سے گھر کی بالائی تعمیرات کیں جبکہ وہ گھر کا مسلسل کرایہ بھی اداکررہے ہیں۔
متاثرین نے حکام بالا سے اپیل کی کہ انصاف فراہم کیا جائے، ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ہمیں دربدر نہ کیا جائے،عدالت میں محکمہ اوقاف نے جھوٹ بولااورغلط بیانی کی جس کا نوٹس لیکر انصاف فراہم کیا جائے۔