پاکستان
سمیت دنیا بھر میں آج انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، اس دن کو
منانے کا مقصد انسان کے حقوق کو بلا تفریق رنگ و نسل، مذہب اور زبان تسلیم
کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کو منانے کا فیصلہ
دس دسمبر انیس سو اڑتالیس میں کیا جس کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کی انسانی
حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ڈیکلیریشن کی جانب توجہ دلانا ہے۔
انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر سماجی تنظیم صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ کے
سربراہ صارم برنی کا کہناتھا کہ ہم انسانی حقوق کا عالمی دن تو مناتے ہیں
لیکن عمل میں کوئی تبدیلی نہیں لاتے، وہی عمل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہر سال
وہی مسائل ہمارے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ ہم لوگوں کو اب عمل کی طرف آنے کی
ضرورت ہے۔ عملی طور پر انسانی حقوق دکھانے کی ضرورت ہے اور حقوق کی جہاں تک
بات ہے حقوق جاندار کے ہیں، وہ درخت ہو، وہ جانور ہو وہ انسان ہو لیکن
افسوس جو سب سے افضل ہے وہ انسان ہے اور پاکستان میں انسانی حقوق کے لکھنے،
پڑھنے اور بولنے میں تو آتے ہیں لیکن عمل میں نہیں آتا، جس کا مجھے بہت
دکھ ہے، ہم بہت محنت اور کوششیں کررہے ہیں اس کیلئے لیکن اس کیلئے جب تک
پوری قوم میں یہ شعور نہیں آئے گا کہ میں نے صرف اپنا حق نہیں لینا ہے میں
نے دوسروں کا حق بھی دینا ہے۔ہم سب حق مانگ رہے ہیں اپنے اپنے لئے دینے کو
کوئی تیار نہیں۔
صارم برنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلاشبہ انسانی حقوق کے لئے حکومتی سطح پر
بہت زیادہ اقدامات کرنا ناگزیر ہے لیکن عوام کو بدلنے کی ضرورت ہے، چینل کو
اپنے ڈرامے بدلنے کی ضرورت ہے، اخبارات میں جو اشتہارات کا نظام ہے اس کو
بدلنے کی ضرور ت، نظام تعلیم کو بدلنے کی ضرورت ہے، ہم نے کبھی کچھ سوچا ہی
نہیں، ریسرچ کی نہیں بہتری کیلئے ، سب کا مقصد یہی ہوگیا ہے کہ پیسہ کمانا
ہے۔ ہمیں انسانی حقوق کیلئے ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔