سرونگ ہینڈز آرگنائزیشن کے زیر اہتمام نیشنل بینک آف پاکستان کے اشتراک سے
شعراء ،ادیبوں اور صحافیوں کے اعزاز میں شام باران سخن اور عشائیے کا
اہتمام کیا گیا۔ مقامی ہوٹل میں منعقدہ اس پروقار محفل میں ملک اور بیرون
ملک سے آئے ہوئے شعراء ، ادیبوں ، ڈاکٹروں اور معززین شہر کی بڑی تعداد نے
شرکت کی۔
تقریب میں شریک حاضرین لندن سے آئی ہوئی معروف شاعرہ ماہ جبیں غزل انصاری ،
یشب تمنا ، اشتیاق میر، امریکا سے آئے ہوئے باسط جلیلی اور دیگر شعراء کے
کلام سے محظوظ ہوئے۔ ڈاکٹر سکندر علی شیخ نے محفل موسیقی میں اپنے سر بھی
بکھیرے۔
اس موقع پر ڈاکٹر سکندر علی شیخ کا کہنا تھا کہ سرونگ ہینڈ آرگنائزیشن ملک
میں ہر سال 39 فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کرتی ہے۔ اس کے علاوہ سرونگ ہینڈ
کے زیر اہتمام ادب کی بھی خدمت کرنے کی کوشش کرنے کے علاوہ سماجی مسائل کے
حل کیلئے بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ میں ادب کی پذیرائی کرنے والوں کا بہت
مشکور ہوں۔
انہوں نے سرونگ ہینڈز کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ بھی کہا کہ سرونگ
ہینڈ ز کا مقصد دکھی انسانیت کی خدمت ہے۔ 1993ء سے کارواں لے کر چلے تھے
وہ کارواں آج تک جاری وساری ہے۔
اس موقع پر نیشنل بینک آف پاکستان کے ترجمان سید ابن حسن کا کہنا تھا کہ
سرونگ ہینڈ آرگنائزیشن پاکستان جلد کے امراض میں مبتلا بچوں کیلئے ایک بہت
بڑے ہسپتال کے قیام کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ سرونگ ہینڈز موبائل
کلینک کیلئے بھی تگ ودو میں مصروف عمل ہے جو کہ نہایت احسن اقدام ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پاکستان میں سی ایس آر
سرگرمیوں میں حصہ لیں، ملک بھر میں صحت کے شعبہ میں عام لوگ بہت زیادہ
مسائل کا شکار ہیں۔ پاکستان کی 70 ویں یوم آزادی کے موقع پر نیشنل بینک آف
پاکستان اپنی سی ایس آر سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ہمیں امید ہے کہ ایسے اقدامات سے عام لوگوں کے صحت کے مسائل کے حل اور غربت
کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ میں نیشنل بینک کی جانب سے یقین دلاتا ہوں پاکستان میں
صحت، تعلیم اور کھیل کے شعبے سمیت تمام سیکٹرز میں ہم اپنی قوم کے ساتھ
شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
اس موقع پر برطانیہ سے آئی ہوئی شاعرہ مہ جبیں غزل انصاری کا کہنا تھا کہ
میں اردو کانفرنس کے سلسلے میں مسلسل گیارہ برس سے پاکستان آرہی ہوں۔ میں
رہتی وہاں ہوں مگر میرا دل پاکستان میں ہی رہتا ہے۔ اردو کے حوالے سے
برطانیہ پاکستان اور بھارت کے بعد تیسرا بڑا مرکز کہلاتا ہے۔ اردو کہیں
نہیں جارہی ، اردو کی مستقل طور پر ترویج اور تخلیق دونوں کام ہورہے ہیں۔
تقریب میں شعراء کرام، ادیبوں اور پاکستان میں بہترین صحافتی خدمات پیش
کرنے والے بین الاقوامی نشریاتی خبر رساں ادارے رائٹرز کے پاکستان میں
آپریشن منیجر عبدالستار حبیب کو تعریفی شیلڈ بھی پیش کی گئی۔