اسلام آباد، کنفلیکٹ اینڈ کوآپریشن ان ساؤتھ ایشیاء کانفرنس کا انعقاد
اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں کنفلیکٹ اینڈ کوآپریشن ان ساؤتھ ایشیاء کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں روس، امریکا اور چین کے اسپیکرز نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد پاکستان کے عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات اور نہ صرف خطے کے استحکام بلکہ بین الاقوامی سلامتی کیلئے کلیدی کردار ادا کرنا تھا۔ کانفرنس میں خطے کے آئندہ آنے والے معاملات کس روش پر چلنے چاہئیں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
کانفرنس سے صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان اور معروف تجزیہ نگار ماریہ سلطان نے بھی خطاب کیا۔
صدر آزاد جموں وکشمیرسردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ پاکستان تنازعہ کشمیر کے تصفیے کیلئے ہمیشہ سے خواہاں رہا ہے اور اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے مثبت اقدامات اٹھائے گئے جن میں سے کرتار پور راہداری کا منصوبہ ایک منہ بولتا ثبوت ہے تاہم بھارت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی مناسب جواب نہ آنا لمحہ فکریہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کی سلامتی اور دیرپا قیام امن سب کے مفاد میں ہے ۔ امن معاشی استحکام کا باعث ہے۔ بھارت آئندہ برس انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے۔
کانفرنس میں شریک اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ریسرچ فیلو خالد حسین چانڈیو کا کہنا تھا کہ آئی پی آر آئی کے تحت انٹرن شپ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے جس کا موضوع ساؤتھ ایشیائی ممالک کا امن کیلئے تعاون اور عالمی طاقتوں کا اس میں کردار تھا۔