وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ
پاکستان کو پاؤں پر اس طرح کھڑا کرنا
ہوگا کہ درآمدات کم اور برآمدات بڑھانی ہوں گی، ڈالر کے ذخائر اتنے کرنے
ہوں گے کہ قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑے لیکن یہ سب کرنے کے لیے ٹیکس کا نظام
وسیع کرنا ہوگا۔ مجھے خوشی ہے کہ اس مرتبہ ٹیکس ریٹرن میں مثبت رجحان
سامنے آیا ہے اور رواں سال اس میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔
اسلام آباد میں ایوان صنعت و تجارت میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ 2017 میں 11 لاکھ 21 ہزار 5سو 23 ٹیکس
ریٹرن فائل ہوئی تھیں جو رواں سال 15 لاکھ سے زائد ہوئی ہیں۔ ٹیکس نیٹ سے باہر لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے
کی کوشش کر رہے ہیں، اس کے علاوہ ہم درآمدات کو کم اور برآمدات کو بڑھا
رہے ہیں جبکہ ہم سے یہ شکایت کی گئی کہ آپ نے موبائل کی درآمدات پر ٹیکس
لگا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ہر سال 2 ارب ڈالر کے موبائل، 90 کروڑ کی دالیں، ایک
ارب 10 کروڑ ڈالر کا پالم آئل درآمد کرلیتے ہیں اور جب تک ہم اس طرح کے
اخراجات کو کم اور ٹیکس کے نظام میں نہیں لائیں گے ملک کیسے اپنے پاؤں پر
کھڑا ہوگا۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس وقت ہماری قانونی ترسیلات زر 20 ارب ڈالر ہے
جبکہ تمام اندازے کہتے ہیں کہ یہ 40 ارب ڈالر ہے اور بدقسمتی سے ہم 10 ارب
ڈالر کے لیے دنیا بھر میں دھکے کھاتے ہیں، لہٰذا اگر ہم اپنی ترسیلات زر
کو بڑھا کر قانونی طریقے میں لے آتے ہیں تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ روکنے کے لیے اقدامات کرنا شروع کردیے ہیں،
گزشتہ حکومت کے 2 مسئلے تھے ایک کرپشن اور دوسرا کرپشن کا پیسہ باہر
بھجوانا تھا۔ سابق دور میں کرپشن کی گئی اور لانچوں اور
ماڈلز کے ذریعے اس پیسے کو ملک سے باہر بھیجا گیا جبکہ ہم کرپشن روک کر منی
لانڈرنگ بن کر رہے ہیں، ترسیلات زر کو قانونی کر رہے ہیں اور برآمدات
بڑھا رہے ہیں۔