کراچی ، پھولوں کی فروخت اور آرائشی کاروبار
دنیابھر اور پاکستان کے تمام بڑے شہروں کی طرح شہرقائد کراچی میں بھی
پھولوں کی تجارت اور آرائشی کاروباربہت بڑے پیمانے پر ہوتا ہے جسے حکومت کی
مکمل توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ مختلف اقسام کے پھول درآمد ہونے کے علاوہ
دوائیں اور خوشبوبنانے سمیت گلقند بنانے اورمختلف کاموں میں بہت زیادہ
استعمال ہوتے ہیں۔
کراچی میں پھولوں کی ملک کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے جسے حکومت اور سرکاری
اداروں کی توجہ حاصل نہ ہونے کے باعث کوئی اہمیت حاصل نہیں ہے، پاکستان میں
پھولوں کی مختلف اقسام سمیت تمام رنگوں اور مختلف خوشبووالے پھول بکثرت
دستیاب ہوتے ہیں لیکن سب سے زیادہ کاشت ،فروخت اور دلچسپی گلاب کے لال پھول
کو حاصل ہے جبکہ دوسرے نمبر پر سفید موتیا آتا ہے ۔
لال گلاب اور سفید موتیا شادی کے موقعوں پر دولہا دلہن کے آرائشی ہاروں
سمیت ان کو لانے لیجانے والی گاڑیاں سجانے میں سب سے زیادہ استعمال ہوتے
ہیں جبکہ انتقال سے لیکر تدفین تک بھی یہی لال گلاب ہرجگہ نظر آتا ہے۔
ایک گلفروش کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سب سے زیادہ ٹیوب ، گلائٹس اورانگلش
روزفروخت اور استعمال ہوتے ہیں جبکہ ان کے پاس پانچ سے چھ رنگوں میں گلاب
دستیاب ہوتا ہے اور دیگر پھول بھی ان کے پاس فروخت کیلئے موجود ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ موسم کے علاوہ پھولوں کی فروخت زیادہ ہوتو یہ مہنگا بکتا
ہے جس کے نرخ 250روپے کلوتک پہنچ جاتے ہیں اور جب فروخت کم ہواور ڈھیر لگ
جائے تو پھر 20روپے کلو بھی بکتا ہے۔