اچار تو دنیا بھر میں ہی پسند کیا جاتا ہے لیکن یہ برصغیر کی خصوصی سوغات میں سے ایک
ہے، اس کے بغیر کوئی بھی دسترخوان مکمل نہیں سمجھاجاتا، پاکستان کے معاشی حب اور
سب سے بڑے شہر کراچی کی شکارپوراورحیدرآباد کالونی اچار کی تیاری اور
فروخت کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہے، برصغیر کے چاروں مشترکہ ممالک
ایران ، بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں چاول ، سبزیوں اور دالوں کے ساتھ
خصوصی طورپر جبکہ دیگر کھانوں کے ساتھ عمومی طورپراچار کھایاجاتا ہے،
اچارمختلف سبزیوں ،پھلوں اور دیگر کھانے کی چیزوں سے تیار کیا جاتا ہے۔
اچار اور اس کا عرق صحت کیلئے کئی متاثرکن فوائد کا حامل ہوتا ہے مگر کچھ
احتیاط کی بھی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بہت تیز مصالحے اور تاثیر کے باعث اسے سالن کے
طورپر نہیں کھایا جاسکتا۔ ہائی بلڈ پریشر یا نمک کے حوالے سے حساس شہریوں
کو تو اس سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔
ایک
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اچار کا اجوائن مصالحہ نہ صرف بدہضمی، پیٹ
میں درد، گیس اور ہاضمے کے دیگر مسائل میں کمی لاتا ہے بلکہ یہ خون میں
چربی کی مقدار میں کم کرتا ہے۔
اس حوالے سے ایک دکاندار شاہدنے بتایاکہ ان کے پاس آم، لیموں اور
مرچوں،ادرک لہسن سمیت 22مختلف قسم کے اچاردستیاب ہیں جبکہ شہر کی مختلف
دکانوں پر ایک اندازے کے مطابق 100سے زائد اقسام کے اچار دستیاب ہیں۔
اچارخریدنے والی کلثوم بانونے بتایاکہ وہ مخصوص دکاندار سے اچھا اچار ہی
خریدتی ہیں وہ عام طورپر مکس اچار خریدتی ہیں کیونکہ اس میں تمام اشیا شامل
ہوتی ہیں۔