بانی پاکستان قائد اعظم ؒ کے 143 ویں یوم پیدائش کے موقع پر ڈی جی رینجرز
سندھ محمد سعید اور میئر کراچی وسیم اختر نے مزار قائد اعظم پر حاضری دی
اور فاتحہ پڑھی۔ میئر کراچی وسیم اختر نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات
بھی قلمبند کئے۔
بعد ازاں ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم
اختر کا کہنا تھا کہ ہر شخص جو ذمہ دار ہے وہ ایک دوسرے پر الزامات عائد
کرکے وقت برباد کررہا ہے۔ جو ادارے ہیں ان کو ان کا کام کرنے دیا جائے اور
آپ اپنا کام کریں۔ آپ کو ڈلیور کرنا ہے۔ عوام کے مسائل حل کرنے ہیں، عوام
نے تازہ تازہ ووٹ دیا ہے، مسائل جوں کے توں ہیں۔ نئی حکومت آنے کے باوجود
بھی پورے پاکستان میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جو حل ہوگیا ہو۔
میئر کراچی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ، کا مسئلہ پینے کے پانی کا
مسئلہ، گیس کی قلت، نوجوانوں کیلئے نوکریاں نہیں ہیں۔ کراچی کے لوگ گیس،
پانی اور بجلی سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔ ہم سب منتخب ہونے کے بعد بھی ایک دوسرے
کے اوپر گند اچھالنے میں لگ جائیں گے تو کام کون کرے گا، پانچ برس توایسے
ہی نکل جائیں گے۔
وسیم اختر نے مزید کہا کہ میرے خیال میں سیاسی لیڈران کو بھی چاہیے کہ یہ
اداروں پر چھوڑ دیں اور اگر تنقید برائے اصلاح کرنی ہے تو لیڈرشپ پر چھوڑ
دیا جائے، پوری کابینہ ہی اسی کام پر لگی ہوئی ہے، لوگوں کے مسائل کہاں
جائیں گے اس پر کوئی بحث نہیں ہوتی۔