ایس
ایس پی ساﺅتھ پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم کے رہنما اورسابق ایم
این اے سید علی رضاعابدی کے قتل کی تفتیش شروع کردی گئی ہے،عام طورپر وہ
نو بجے اپنی فیکٹری سے نکل کر اپنے کیفے نما ہوٹل پر جاتے تھے جہاں سے وہ
رات گئے اپنے گھر جاتے تھے لیکن وہ گذشتہ روز اپنے آفس سے معمول کے وقت سے
پہلے نکلے تھے کیونکہ آج ان کی فیملی کو ان کی بیٹی کی پڑھائی کے سلسلے میں
امریکا جانا تھا اسی لئے وہ گذشتہ رات ڈنر پر جانے کیلئے جلدی روانہ ہوئے
تھے ۔
کراچی
میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناکر قتل کئے جانے والے ایم کیوایم کے رہنما
اورسابق ایم این اے سید علی رضاعابدی کے جائے قتل کا جائزہ لینے کے بعد ایس
ایس پی ساﺅتھ پیرمحمد شاہ نے بتایا کہ دوپہر میں مقتول کی تدفین کے بعد ہی
ان کے خاندان کی جانب سے قتل کامقدمہ درج کروایا جائے گا جوشاید ان کے
والد درج کروائیںگے، علی رضاعابدی کے قتل کے مقام سے شواہد اکھٹے کرلئے گئے
ہیں جس کی تفتیش اورتحقیق کیلئے میٹنگ بلوالی گئی ہے اور میں ابھی جاکر ان
شواہد کا جائزہ بھی لوں گا۔
انہوںنے
کہا کہ جودو قاتلوں کی وڈیوکی وائرل ہوئی ہے وہ تو سب نے دیکھ ہی لی ہے،
ہم اس کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، میں ان کی فیملی سے ملنے اسی لئے آیا تھا
کہ یہ پوچھ سکوں کہ انہیں کسی قسم کی دھمکی تو نہیں ملی یا یاکوئی اور
معاملہ یا مسئلہ تو نہیں تھالیکن ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی لیکن پارٹی
کے ٹکروں میں جو کشیدگی اور تناﺅ ہوتا ہے وہ توایک عام سی بات ہے۔