ایم کیو ایم کے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی گھر کے باہر فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے۔
ایم کیو ایم کے سابق رہنما علی رضا عابدی کی رہائش گاہ
خیابان غازی کے باہر نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کردی جس کے باعث علی رضا
عابدی شدید زخمی ہوگئے۔انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ
جانبر نہ ہوسکے۔
علی رضا عابدی کو سر اور گردن میں مجموعی
طور پر تین سے چار گولیاں لگی ہیں جس کے باعث وہ زخمیوں کی تاب نہ لاتے
ہوئے اسپتال میں جاں بحق ہوگئے۔
واقعے کی خبر سنتے ہی ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی بڑی تعداد ہسپتال پہنچ گئی۔
اس موقع پر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے سابق کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار کا
کہنا تھا کہ صرف میرا نہیں ، صرف کراچی کا نہیں اور ایم کیو ایم کا نہیں
بلکہ علی رضا عابدی پاکستان کا اثاثہ تھے، ظاہر ہے آج تو الفاظ بھی میرا
ساتھ نہیں دیں گے، میں کیا بات کروں، میں میں تو صرف یہ پوچھوں گا کہ ہمارا
قصور کیا ہے۔ کراچی میں یہ بدامنی کی لہر کئی دنوں سے آگئی ہے اور ہم یہ
متنبہ کررہے تھے کہ کوئی بڑا واقعہ نہ ہوجائے۔ علی رضا عابدی چار دن پہلے
بھی اسے اطلاع ملی تھی کہیں سے کہ اس کی زندگی کو خطرہ ہے۔ پی ایس پی کے دو
ساتھی ابھی شہید ہوئے، ہمارا دل وہ خبر سن کر بھی بیٹھ گیا تھا۔