اٹلی، اپاہج اور معذوروں کی مدد کیلئے دنیا بھر میں گھومنے والامعذوراسٹیفن سمنر
اٹلی میں موٹرسائیکل کے حادثے میں معذور ہونے والے اسٹیفن سمنرنے دنیا بھر کے معذورہونے والے افراد اور فوجیوں کی مدد اور زندگی جینے کا حوصلہ بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے کیونکہ اسٹیفن سمنر خود 15سال قبل ایک ٹانگ سے معذور ہونے کے ساتھ جوڑوں میں درد کی انتہائی خطرناک بیماری کاشکارہوگیا تھا ۔
58سالہ اسٹیفن سمنرنے بتایاکہ وہ وہ حادثے کے بعد جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی اور نفسیاتی طورپر بھی ٹوٹ پھوٹ گیا تھااور زندگی سے ایسامایوس ہوا تھا کہ خودکشی کی کوشش بھی کی لیکن ناکام رہا۔پھر جان لیوا درد سے نجات کیلئے اس نے ہرقسم کا نشانہ بھی کیا لیکن اسے نہ سکون ملا اور نہ ہی درد میں کوئی کمی ہوئی ،یہ دورمیری زندگی کا سب برا اور بدترین وقت تھا جسے میں نے کئی سالوں تک برداشت کیا لیکن پھر اچانک سوچ بدلنے لگی۔
انہوں نے کہاکہ میں کئی سال تک اپنی معذوری اور زندگی پر غورکرتارہاکیونکہ میں عام انسانوں کی طرح نہ کوئی کام کرسکتاتھااور نہ ہی ان کی طرح زندگی گزارسکتا تھالیکن پھر اچانک انٹرنیٹ پر مجھے شیشہ سے تھراپی کا علم ہوا جس سے مجھے احساس ہواکہ نہ صرف میرادرد کم ہوا ہے بلکہ میری معذوری بھی ختم ہوگئی ہے اور میں پہلے کی طرح مکمل انسان ہوں ، اس تھراپی پر عمل کے بعد تومیری زندگی بدل گئی اور میں عام لوگوں کی طرح نارمل زندگی گزارنے لگاکیونکہ اس مرر تھراپی میں انسان کا دماغ خود کو معذور نہیں بلکہ مکمل سمجھنے لگتا ہے جوبہت اچھا اورحیرت انگیز عمل ہے۔
اسٹیفن سمنرنے بتایاکہ اس کے بعد اس نے دنیابھر کے معذوروں اور حادثات کا شکارہونیوالے فوجیوں کی فلاح و بہبود کا بیڑا اٹھالیاہے اور اب وہ اس سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک میں جاتا ہے اور وہاں پر موجود معذوروں اور فوجیوں کی مرر تھراپی سے تکلیف دورکرکے انہیں اپنے جیسا بہتراچھااورنارمل انسان بنانے کی کوشش کرتاہے۔