ترجمان
دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ صرف 2018 میں اب تک مقبوضہ کشمیر
میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کی تعداد 500سے زائد ہے، اس
معاملے کو ہم نے جدہ اور27ستمبر کو نیویارک میں ہونے والی میٹنگ سمیت دنیا
کے ہر فورم اور ہر جگہ اجاگر کیاہے۔
ہفتہ
وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا مزید کہنا تھا کہ
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی
تقریر کا 70فیصد حصہ بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ہاتھوں ہونےوالے ظلم پر
ہی مبنی تھا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی مختلف ہیومن رائٹس کی تنظیموں سمیت
مختلف اداروں کی رپورٹس مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم سے متعلق ہمارے موقف
کی تائید کرتی ہیں۔
انہوں
نے کہا کہ بہت جلد یورپی یونین کی جانب سے بھی مقبوضہ کشمیر کے معاملات پر
ایک مذاکرہ ہونے والا ہے جبکہ ہم پاکستان کی جانب سے 5فروری کو لندن میں
ایک یکجہتی کشمیر مظاہرے کاپروگرام بنارہے ہیں۔
ترجمان
دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان24دسمبر کو افغانستان کی سرکاری عمارت
پر کی گئی فائرنگ اور خودکش حملے کی سخت مذمت کرتا ہے جس میں چالیس افراد
ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ ہم حملے میں ہلاک او رزخمی ہونے والوں کے
خاندانوں سے تعزیت، دلی ہمدردی اور افسوس کااظہا ر کرتے ہیں ۔ ان مشکل وقت
اورحالات میں حکومت پاکستان افغا ن حکومت اور افغان شہریوں کے ساتھ کھڑی
ہے۔
ایک
سوال پر انہوں نے بتایا کہ اس وقت بھارتی جیلوں میں 341پاکستانی قیدی ہیں
جن میں سے 154عام پاکستانی ہیں جبکہ 187ماہی گیر اور مچھیرے ہیں جن کی
واپسی کیلئے بھارتی حکومت اور متعلقہ انتظامیہ سے بات چیت جاری ہے۔