واشنگٹن، امریکی صدر کے سابق ذاتی وکیل مائیکل کوہن کی الزامات کی سختی سے تردید
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق ذاتی وکیل مائیکل کوہن نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ 2016میں پیرا گوئے گئے تھے یا انہوں نے جمہوریہ چیک کاکوئی دورہ کیا تھا ، ان الزاما ت کی تردید انہوں نے اس وقت کی ہے جب ان پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کے موبائل فون کو مشرقی یورپی شہر کے قریب ٹریس کیا گیا تھا۔ہوسکتا ہے کہ یہ الزام 2016میں روسی مداخلت کے سلسلے کا حصہ ہو۔
شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مائکل کوہن نے 2016میں جمہوریہ چیک کادورہ کیا تھااور کچھ اعلی روسی حکام سے ملاقاتیں کیں تھیں جس کے دوران اایک انٹیلی جنس ایجنسی نے ان کا ٹیلی فون ٹیپ کیاتھااور ان کی گفتگو کوسننے کی کوشش کی گئی تھی۔
کانگریس کی کارروائی کے دوران جب ڈیموکریٹک پارٹی کے اسکاٹ ڈیسن اورقانون داں پروفیسر جینیفرٹوب نے مائیکل کوہن سے پوچھا تھا کہ کیا آپ کسی بھی وجہ سے یا کسی بھی وقت کبھی بھی جمہوریہ چیک گئے تھے تو انہوں نے اس الزام کودومرتبہ سختی سے مسترد کردیا۔
یاد رہے کہ مائیکل کوہن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق وکیل ہیں جنہیں ٹرمپ کے خفیہ معاملات میں مدداور معاملات چھپانے پر 3 سال کیلئے جیل بھیج دیا گیاہے، ان پر صدر ٹرمپ کیلئے خلاف ضابطہ مالی ادائیگیوں کا الزام ہے اور وہ روس سے رابطوں کے حوالے سے بھی زیرتفتیش رہے ہیں اور اب ایک مرتبہ پھر یہ معاملہ کھل گیا ہے۔